Tuesday, 21 February, 2006, 13:12 GMT 18:12 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ریاست مہاراشٹر میں بعض افراد میں برڈ فلو جیسی بیماری کی علامات پائی گئی ہیں لیکن ابھی اس بات کی جانچ ہو رہی ہے کہ آیا یہ اطلاعات درست ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایسے 7 افراد کو جن میں سے زیادہ تر بچے ہیں ہسپتال میں سب سے الگ تھلگ وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ اسی دوران مرغیوں کے مارنے کا کام تیزی سے جاری ہے لیکن اس وائرس کے مزید علاقوں میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔
مرغیوں میں برڈ فلو کا انکشاف گزشتہ ہفتے کے روز ہوا تھا اور اس دن بھی دو افراد کو شک کی بنیاد پر ہسپتال میں علیحدہ جگہ پر رکھا گیا تھا لیکن محکمہ صحت کے حکام نےمنگل کواس بات کی تصدیق کی ہے کہ سات مزید افراد میں برڈ فلو جیسی علامات کا پتہ چلا ہے اسی لیے انہیں الگ تھلک رکھا گیا ہے۔
مسٹر ڈوک نے کہا کہ جن مریضوں کو سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے انکی حالت زیادہ خراب نہیں ہے لیکن ’انہیں بہت تیز بخار ہے اور کھانسی آرہی ہے۔‘
ریاست کے وزیر صحت انیس احمد نے کہا ہے کہ ان مریضوں کے خون کو جانچ کے لیئے لیبارٹری بھیجا گیا ہے اور اسکے نتائج کا پتہ ایک ہفتے میں چلے گا۔ لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی تک انسانوں میں برڈ فلو وائرس کا حتمی پتہ نہیں چلا ہے۔
مہاراشٹر کے نوا پور اور دیگر پولٹری فارمز میں مرغیوں کے مارنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ تاہم اسی دوران ہنگولی کے علاقے میں بھی تقریباً ایک ہزار پرندوں کے مرنے کی خبـر ہے اور انکی جانچ کے لیئے بھی انکے نمونے بھوپال بھیجے گئے ہیں۔ اس بات کے بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ برڈ فلو مزید علاقوں میں پھیل سکتا ہے۔