Monday, 13 February, 2006, 12:10 GMT 17:10 PST
نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان کی عدالت عظمی نے زہریلے مادے سے بھرے ہوئے فرانس کے بحری جہاز ’کلیمنسو‘ کے ہندوستان آنے پر ایک بار پابندی لگا دی ہے۔
عدالت نے کلمینسو کے معاملے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے ماہرین کی ایک نئی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس معاملے میں وزارت دفاع سے بھی صلاح و مشورہ کیا جائے۔
فرانس نے ہندوستان کی ایک کمپنی کے ساتھ پرانے جہاز کو توڑنے کے لیے ایک معاہدہ کیا ہے ۔ اسی معاہدے کے تحت یہ پرانا بحری جہاز ہندوستان کی ریاست گجرات کے ساحلی شہر النگ لایا جا رہا ہے۔
جہاز میں رکھے ہوئے زہریلے مادے کے سبب یہ ایک بڑے تنازعہ کا شکار ہو گیا ہے ۔ ماحولیات کے ماہرین کے مطابق اس جہاز میں ’اسبیسٹس‘ کا زہریلا مادہ ہے جو ان مزدوروں کی صحت کے لیے کافی خطرناک ہے جو لوگ پرانے جہاز کو توڑنے کا کام کرتے ہیں۔
ماحولیات کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’گرین پیس‘ اس جہاز کے ہندوستان آنے کے خلاف کافی عرصے سے احتجاج کر رہی ہے۔
گزشتہ برس دسمبر میں یہ جہاز فرانس سے ہندوستان کے لیے روانہ ہوا تھا اور فی الوقت یہ بحیرہ عرب میں ہے اور مارچ کی ابتدا میں یہ ہندوستان پہنچ جائے گا۔
لیکن یہ اب تک واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اس جہاز میں اسبیسٹس کی آخر کتنی تعداد موجود ہے۔ عالمی
تنظیم ’گرین پیس‘ کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس جہاز میں 700 میٹرک ٹن اسبیسٹس ہے جبکہ فرانس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس میں 45 میٹرک ٹن اسبیسٹس موجود ہے۔
اس معاملے پر نظر رکھنے کے لیے عدالت نے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی اور گزشتہ دنوں اس کمیٹی نےجہاز کے بارے میں ناکافی تفصیلات حاصل ہونے کے سبب اس کے ہندوستان آنے پر پابندی عائد کردی تھی۔