Friday, 10 February, 2006, 01:43 GMT 06:43 PST
بھارتی حکومت نے آئی ٹی کی صنعت میں تین ارب ڈالر کی لاگت سے ملک کے پہلے مائیکرو پروسیسر اور سیلیکان چپس بنانے کے سینٹر کی اجازت دے دی ہے۔
یہ منصوبہ ملک کے جنوبی شہر حیدرآباد میں لگے گا اور توقع ہے کہ اس سے دس ہزار کے قریب نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔
بھارت کے لئے یہ منصوبہ بہت اہم ہے کیونکہ دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اہم رول ادا کرنے کے باوجود بھارت کو کمپیوٹر کے ضروری پرزے باہر سے منگوانے پڑتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ سن دو ہزار پندرہ تک بھارت کے اس سیکٹر کی قدروقیمت بائیس اعشاریہ چھ بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
اس سینٹر کے قیام کے لئے دو اہم ہائی ٹیک شہروں یعنی حیدر آباد اور بنگلور میں ٹھنی ہوئی تھی۔ حیدرآباد سیلیکان کے لی جبکہ بنگلور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا گڑھ ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔
آندھرا پردیش کے وزیرِ اعلیٰ راج شیکھر ریڈی نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ آئی ٹی کی صنعت میں تین بلین ڈالر کی لاگت کے اس منصوبے کے تحت بیس مائیکرو پروسیسرم اور سیلیکان چپس بنانے کے یونٹ قائم کیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نیا منصوبہ جس کا نام فیب سٹی ایک ہزار دو سو ایکڑ رقبے پر حیدر آباد کے قریب لگایا جائے گا۔
سیم انڈیا کے سربراہ ونود اگروال جو ان منصوبوں کے حوالے سے خاص طور پر جانے جاتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ منصوبوں پر دو مرحلوں میں رقم خرچ کی جائے گی۔
سین انڈیا امریکہ میں مقیم ان بھارتیوں کا کنسورشیم ہے جس نے امریکہ کی بڑی کمپنی ایڈوانسڈ مائکرو ڈیوائسز سے لائسنس حاصل کیا ہے تاکہ کہ مائکرو پروسیسرز اور چپس بھارت میں تیار کیئے جا سکیں۔
اس منصوبے سے بھارت الیکٹرانی چیزیں جن میں موبائل فون، اعلیٰ قسم کے ٹیلی وژن، ڈی وی ڈی اور دیگر ٹیلیفون بنانے میں خود کفیل ہو جائے گا۔