http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 02 February, 2006, 07:20 GMT 12:20 PST

سب سےبڑی غربت مٹاؤ سکیم

بھارت میں غربت کے خاتمے کے ایک منصوبے پر کام شروع کیا ہے جس کے تحت چھ کروڑ خاندانوں کے کم از کم ایک رکن کو لازمی روزگار دیا جائے گا اور اس کی کم از کم اجرت ساٹھ روپے یومیہ ہو گی۔

ملک کے جنوب میں شروع کیے جانے والے اس منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پانچ افراد میں نوکریوں کے کارڈ تقسیم کیے۔ اس موقع پر کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی بھی موجود تھیں۔ اس سکیم کو بھارت کی طرف سے دیہاتی علاقوں سے غربت کے خاتمے کی سب سے بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

منموہن سنگھ نے بدھ کے روز دِلّی میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس منصوبے کو بیس ماہ سے بر سر اقتدار حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیا۔

یہ یقیناً دِلّی میں کسی بھی حکومت کی جانب سے دیہاتی علاقوں سے غربت مٹانے کے لیے سب سے بڑی سکیم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ کانگریس پارٹی کی طرف سے ایک سیاسی قدم بھی ہے کیونکہ وہ دو ہزار چار کے انتخابات میں اس نعرے پر منتخب ہوئی تھی کہ بھارت کی اقتصادی ترقی کے ثمرات غریب آدمی تک نہیں پہنچ رہے۔

بھارت کی ستّر فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے۔ اس سکیم کے تحت چھ کروڑ گھروں میں ایک شخص کو نوکری کی ضمانت دی جائے گی۔ سکیم کے تحت ایک تہائی نوکریاں خواتین کے لیے مختص ہیں۔ سکیم کے لیے پنچایتوں کی مدد سے کسی بھی گاؤں میں ضرورت مند گھر کا تعین کیا جائے گا۔

سکیم کے پہلے مرحلے میں ملک کے دو سو غریب ترین اضلاع کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس سکیم کے تحت شہریوں کو ناصرف نوکری کا حق دیا گیا ہے بلکہ پندرہ روز کے اندر نوکری نہ ملنے کی صورت میں بیروزگاری الاؤنس کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس سکیم کو آئندہ چار سال میں پورے ملک میں پھیلا دیا جائےگا۔

بھارت میں بعض لوگوں کا خیال ہے اس منصوبے کو شروع کرنے سے پہلے ضروری تحقیق نہیں کی گئی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ پانچ سے بیس ارب ڈالر کی اس اس سکیم کے لیے وسائل کہاں سے حاصل کیے جائیں گے۔