بھارت کے زیرانتظام جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں فوج اور علیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپ میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اس واقعے میں مرنے والوں میں دو فوجی اور دو علیحدگی پسند شامل ہیں۔
فوج کے ایک سینئر افسر کرنل ڈی کے بدولا کا کہنا ہے کہ فوج اورعلیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپ جمعرات کو جموں سے دو سو چالیس کلومیٹر دور مداری کے علاقے میں ہوئی۔ یہ علاقہ پہاڑی جنگلات پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران دو علیحدگی پسند مارے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق مرنے والوں میں ایک پاکستانی شہری ہے اور اس کا نام شاہ علی ہے۔ حکام اسے جیشِ محمد کا ضلعی ناظم بتاتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے چھ علیحدگی پسند فوج کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے تھے۔ یہ جھڑپ ان افراد کے لائن آف کنٹرل کو پار کرنے کے وقت شروع ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ لائن آف کنٹرول کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔
بھارت اکثر یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ دراندازی میں کمی کے لیے پاکستان کوئی موثر کارروائی نہیں کررہا ہے تاہم پاکستان ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ کشمیری علیحٰدگی پسند آزادی کی جدوجہد کے لیے کوشاں ہیں اور اس انتہا پسندی میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔