Wednesday, 01 February, 2006, 02:25 GMT 07:25 PST
ہندوستان میں دو سب سے بڑے ہوائي اڈوں کی جدیدکاری کا کام دو نجی کمپنیوں کو دینے کا اعلان کر دیا ہے اور ہندوستان میں سینٹر فار انڈین ٹریڈ یونین، سی آئی ٹی یو نے اعلان کیا ہے کہ شہری ہوا بازی کے وزارت کے اس فیصلے کے خلاف ہندوستان میں ہوائی اڈوں کے بیس ہزار کے لگ بھگ ملازمین بدھ سے ہڑتال شروع کر رہے ہیں۔
شہری ہوا بازی کی وزارت کے فیصلے کے مطابق دلی کے ہوائی اڈے کا کام ہندوستان اور جرمن کمپنی کے ایک کنسورشیم جی ایم آر - فراپورٹ کرے گا اور ممبئی ہوائی اڈے کا کام جنوبی افریقہ اور ہندوستان کے کنسورشیم جی وی کے ائر پورٹس کی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا۔
جب یہ ٹھیکے دینے کے لیے مختلف کمپنیوں کی پیشکشوں کا جائزہ لیا جا رہا تھا اس وقت بھی دلی اور ممبئی کے ہوائی اڈوں کے ملازمین ممکنہ نجکاری کے خلاف احتجاج میں مظاہرے کر رہے تھے۔
ان ملازمین کو خدشہ ہے کہ ہوائی اڈوں کی نجکاری سے ملازمین کی بڑی اکثریت ملازمت سے محروم ہو جائے گی لیکن شہری ہوا بازی کے وزير پرفل پٹیل نے ایک نیوز کانرفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکے خدشات کو مسترد کر دیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’دونوں کمپنیوں نے کہا ہے کہ وہ 60 فیصد ملازمین ائرپورٹ اتھارٹی کے ہی رکھيں اور 10 سے 15 فیصدر ملازمین ائر پورٹ اتھارٹی کے ہی ملازمین رہیں گے‘۔
ہندوستان میں حالیہ برسوں میں فضائی مسافروں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور ہوائی اڈوں کی موجودہ سہولیات نہ صرف ناکافی ہیں بلکہ مسافروں کے لیے پریشانی کا سبب بنی ہوئي ہیں۔
حکومت ایک عرصہ سے ہوائی اڈوں کی جدیدکاری کے لیے کوشاں ہے اور وہ یہ کام اس کی نوعیت کے پیش نظر نجی اور تجربہ کار کمپنیوں کو ہی دینا چاہتی ہے کیوں کہ اس طرح کا تجربہ سرکاری زمرے کی کمپنیوں کو نہیں ہیں۔
بائيں بازو کی جماعتیں اورملازمین کی یونینیں حکومت کی کوششوں کی مخالفت کرتی رہی ہیں جس کے سبب جدید کاری کے عمل میں شدید تاخیر ہوئی ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ حکومت ان مخالفت کے باجود جدیدکاری کا عمل نجی کمپنیوں سے ہی کرائے گی خواہ اس کے لیے اس کی اتحادی بائيں بازو کی جماعتیں ناراض ہی کیوں نہ ہو جائيں۔