شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
اردو اور نیو میڈیا کے عنوان کے تحت بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی انڈیا کیمپین کا باقاعدہ آغاز بدھ کے روز دلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انصاری آڈیٹوریم میں ایک سیمینار کے ساتھ ہوگیا۔
جنوبی دلی میں واقع جامعہ کے انصاری آڈیٹوریم میں ہونے والے اس سیمینار میں بڑی تعداد میں طلبہ، اساتذہ، صحافیوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔
سیمینار سےانڈیا کے سابق وزیراعظم آئی کے گجرال، سرکردہ دانشور برفل بدوائی اور آئی ٹی کے ماہر اور صحافی اشوتوش سنہا نے خطاب کیا۔مہمانوں کے آنے سے قبل ہی انصاری آڈیٹوریم طلبہ اور اساتذہ سے بھر گیا۔
نیو میڈیا کا نیا کردار |
اشوتوش کے مطابق انٹرنیٹ کے لئے کمیونیکیشن کے ڈھانچے میں پاکستان کئی اعتبار سے انڈیا سے آگے ہے لیکن اس سلسلے میں دونوں ہی ممالک کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
![]() | |
| سیمینار میں بڑی تعداد میں طلبہ، اساتذہ، صحافیوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ |
سرکردو دانشور پرفل بدوائی نے کہا کہ اردو کو انٹرنیٹ پر جن تکنیکی مسائل کا سامنا ہے اس کے حل کے لئے انڈیا اور پاکستان کو مل کر کام کرنا چاہئیے۔ ’نیو میڈیا ، ٹی وی اور پرنٹ میڈیا پر زبردست دباؤ ڈال سکتا ہے اور اسے مزید جوابدہ بنا سکتا ہے۔‘
اس مباحثے کے دوران کئی لوگوں نے سوالات بھی کیئے جن کے جوابات بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مظہر زیدی اور عالیہ نازکی نے دیئے۔ کئی شرکا نے اردو فونٹ کی وجہ سے دشواری کی شکایت کی اور کہا کہ اردو ویب سائٹ پر عام لوگوں کی طرف سے لکھی گئی تحریوں کو اور بھی جگہ دی جانی چاہئیے۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی انڈیا کیمپین گزشتہ تین دنوں سے دلی میں جاری تھی اور بدھ کے روز یہ ایک کاروان کی شکل اختیار کرگئی ہے اور اس کا اگلا پڑاؤ اب حیدرآباد دکن میں ہوگا۔