Tuesday, 24 January, 2006, 11:52 GMT 16:52 PST
نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلّی
ہندوستان کی عدالتِ عظمٰی نےگزشتہ برس بہار اسمبلی کی تحلیل کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔
عدالت نے ریاست کے گورنر بوٹا سنگھ کے فیصلے پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جس بنیاد پر مرکزی حکومت کو بہار کے حالات کی رپورٹ بھیجی تھی اس میں ٹھوس معلومات نہیں تھیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ گورنر نے اپنے فیصلہ سے مرکز کو گمراہ کیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ گورنر کی رپورٹ سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت حاصل نہ ہونے کے بعد جنتادل یونائیٹڈ کے حکومت سازی کے دعوے کو نظرانداز کرنا چاہتے تھے اور ان کے اسی فیصلے کے سبب گزشتہ برس 23 مئی کو بہار اسمبلی کو تحلیل کرنا پڑا تھا۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بہار کے گورنر بوٹا سنگھ نے کسی طرح کے رد عمل سے انکار کر دیا ہے۔ دارالحکومت دلی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بوٹا سنگھ نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے پر مجھے کچھ نہيں کہنا ہے‘۔
ان کے استعفٰی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ’میں سپریم کورٹ کی عزت کرتا ہوں اور آئندہ 26 جنوری یعنی یوم جمہوریہ کے روز پریڈ کی سلامی لوں گا‘۔ ان کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فی الحال اپنے عہدے سے استعفی نہیں دے رہے ہيں۔
بہار میں سال دو ہزار پانچ کی ابتدا میں انتخابات ہوئے تھے لیکن کسی بھی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہو سکی تھی اور تقریباً ڈھائی میہنے کے انتظار کے بعد ریاست میں صدر راج نافذ کر دیا گيا تھا۔
انتخابات سے قبل اکتوبر میں ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں بہار اسمبلی کی تحلیل کوغیر آئینی قرار دیا تھا لیکن انتخابات طے شدہ تاریخوں کے مطابق جاری رکھنے کا حکم بھی دیا تھا۔
نومبر میں بہار میں دوبارہ انتخابات کرائے گئے لیکن انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعتوں کو کامیابی حاصل ہوئی اور نتیش کمار وزیرِاعلی بنے۔ یاد رہے کہ سابقہ انتخابات میں نتیش کمار کو ہی حکومت سازي کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔