http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 21 January, 2006, 15:36 GMT 20:36 PST

صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

’سیاست کیلیے نہیں زیارت کیلیے‘

ہندوستان کے سابق وزیر خارجہ اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما جسونت سنگھ بلوچستان کےایک قدیم مندر کی زیارت کے لیے پاکستان جارہے ہیں۔

مسٹر سنگھ نے کہا ہےکہ صوبہ بلوچستان میں ہنگلاج مندر ہندو عقیدت مندوں کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور وہ اسی کی زیارت کے لیے جارہے ہیں نہ کہ سیاست کرنے۔

ہنگلاج کے لچھن، کمو اور جانو

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما جسونت سنگھ نے کہا کہ وہ سو آدمیوں پر مشتمل ایک قافلے کے ساتھ تیس جنوری کو بری راستے سے پاکستان کے لیے روانہ ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم منوہن سنگھ کا شکر گزار ہوں جنکی مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا‘۔

بی بی سی اردو سروس سے خاص بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ وہ کراچی بھی جائیں گے اور وہاں وہ بانی پاکستان محمد علی جناح کی مزار پر بھی حاضری دینگے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’کراچی پہنچ کر قائدے اعظم کی مزار پر نہ جانا بے ادبی ہوگی۔ میں وہاں ضرور جاؤں گا‘۔

جسونت سنگھ قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی زندگی پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’میرے اس دورے سے ان پر ریسرچ میں بھی مدد ملے گی۔ حالانکہ تقریبا پورا مواد حاصل کرچکا ہوں اور کتاب بھی جلدی ہی پوری کرونگا لیکن ظاہر ہے مدد تو ملے گی‘۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ ’ہمیں ایسی شخصیات پر ریسرچ کرنا چاہیے اور اپنے دماغ و فکر کے دروازے کو بند نہیں کرنا چاہیں۔ ایسی تحقیقات ہونی چاہیں جس سے کہ انصاف کیا جاسکے‘۔

گزشتہ برس بی جے پی کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے اپنے پاکستان دورے پر قائداعظم کی مزار پر حاضری دی تھی لیکن انہیں سیکولر رہنما کہنے پر بھارت میں سخت قسم کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

حال ہی میں ہندوستان نے بلوچستان کے حوالے سے کچھ ایسے بیانات جاری کیے تھے جس پر پاکستان نے شدید اعتراض کیا تھا لیکن جسونت سنگھ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کا دورہ خالص مذہبی نوعیت کا ہے اور وہ سیاست کرنے نہیں جارہے ہیں۔ ’میں وہاں کو ئی تنازعہ کھڑا کرنے نہیں جارہا ہوں‘۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہینگ لاج کا قدیم مندر دریائے ہنگول کے کنارے واقع ہے۔ ہندو اسے ’ہنگلاج دیوی‘ کا مندر کہتے ہیں جبکہ علاقے کے بعض دیگر برادریاں اسے ’بی بی نانی‘ کہتے ہیں۔