Monday, 09 January, 2006, 02:46 GMT 07:46 PST
ایک طبی تحقیق کے مطابق بھارت میں گزشتہ بیس برس کے دوران لگ بھگ ایک کروڑ لڑکیوں کو ان کی جنس کی وجہ سے ماں کی کوکھ ہی میں ہلاک کر دیا گیا۔
یہ تحقیق بھارت اور کینیڈا میں ہوئی ہے جس کی رپورٹ لینسٹ جرنل میں شائع کی گئی ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر بربھات جاہ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہوں نے ایک لاکھ ماؤں سے بات چیت کی ہے۔ سروے میں پتہ چلا ہے کہ جہاں بھی پہلی اولاد لڑکی تھی، دوسری اولاد کے وقت لڑکی کی صورت میں اولاد کو کوکھ ہی میں مار دینے کا رجحان زیادہ تھا۔
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق اس تحقیق کے لیے انیس سو اٹھانوے سے گیارہ لاکھ گھروں کا سروے ہوا جس سے معلوم ہوا کہ ہر سال پانچ لاکھ بچیوں کو صرف جنس کی وجہ سے ماں کی کوکھ میں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ بچیوں کو ماں کی کوکھ میں ہلاک کردینے کا تعلق کسی بھی طرح مذہب سے نہیں تھا البتہ یہ شرح ان خاندانوں میں زیادہ تھی جہاں کسی نہ کسی حد تک تعلیم یافتہ افراد یا کم از کم میٹرک پاس لوگ موجود تھے۔
دنیا کے اکثر ممالک میں عورتوں کی شرح مردوں کی نسبت کچھ زیادہ ہے تاہم سن دو ہزار ایک کے لیے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق بھارت میں اگر ایک ہزار بچے پیدا ہوئے تو بچیوں کی تعداد نو سو تینتیس رہی۔
ڈاکٹر پربھات جاہ جو ٹورانٹو میں سینٹ مائیکل ہسپتال میں کام کرتے ہیں ان کے ہمراہ اس طبی تحقیق میں راجیش کمار بھی شامل تھے جو چندری گڑھ میں طبی تحقیق کے پوسٹ گریجوایٹ انسٹیٹیوٹ سے منسلک ہیں۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اگر کسی کے ہاں پہلی اولاد لڑکی تھی تو دوسری اولاد کے انتخاب کے لیے لڑکا تھا۔ اگر کسی گھر میں پہلے سے ہی دو لڑکیاں تھیں تو تیسری اولاد میں لڑکوں کی شرحِ پیدائش ایک ہزار جبکہ لڑکیوں کی شرحِ پیدائش سات سو انیس تھی۔
تاہم اگر کسی گھر میں پہلے لڑکا ہوا تو بعد میں لڑکی پیدا ہونے کی شرح برابر تھی۔
ڈاکر جاہ کہتے ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت میں الٹرا ساؤنڈ متعارف ہونے کی وجہ سے یہ امکان ہے کہ لڑکیوں کو ماں کے پیٹ میں مار دینے کا رجحان رہا ہے۔ لہذا یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ اب تک ایک کروڑ بچیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔