http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 04 January, 2006, 17:49 GMT 22:49 PST

سندیپ ساہو

اتھلیٹ بچے کے کوچ کی انکوائری

بھارت کے مراتھن دوڑ میں حصہ لینے والے ساڑھے تین سالہ بچے کے کوچ آج انکوائری کے سلسلے میں بچوں کی بہبود کے ادارے کے سامنے پیش ہوئے۔

بدھیا سنگھ کے کوچ برانچی داس کے سمن گزشتہ ماہ ریاست اڑیسہ میں جاری کیے گئے تھے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس ادارے کے پاس اس قسم کے کیس کی سماعت کا اختیار نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ریاست کی حکومت انہیں بچے سے جدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدھیا نے ساٹھ کلومیٹر تک دوڑ لگانے کا مظاہرہ کیا ہے اور اسے ٹیلیویژن پر بھی دکھایا گیا ہے۔

مقدمے کی سماعت کے لیے کوچ برانچی داس بدھیا کے ساتھ پیش ہوئے۔ ان کے ساتھ ان کے حامیوں کی ایک بہت بڑی تعداد تھی جو حکومت کے خلاف نعرے لگا رہی تھی۔

کوچ برانچی داس کے وکیل ستنشو موہن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے موکل نے اس ادارے کے اختیارات کے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے خلاف کوئی باقاعدہ شکایت درج نہیں کروائی گئی ہے اور مذکورہ کمیٹی صرف اسی صورت میں انکوائری کر سکتی ہے جب اس کے پاس شکایت درج کروائی جائے۔

وکیل صفائی نے بتایا کہ ان کے موکل نے اپنے خلاف لگائے گئے تشدد اور استحصال کے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی اگلے چند روز میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔

برانچی داس کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اگر کمیٹی ان کے خلاف فیصلہ بھی کر دے تو حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔

تاہم خواتین اور بچوں کی بہبود کی وزیر پرامیلا ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ کمیٹی بچے کو کوچ کی تحویل سے نکال کر کسی محفوظ جگہ بھیج سکتی ہے جہاں اس کی ذہنی اور جسمانی فلاح کا خیال رکھا جا سکے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کمیٹی والدین کی جانب سے برے سلوک کی صورت میں کسی بچے کو اپنی تحویل میں بھی لے سکتی ہے۔ تاہم انہیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ کمیٹی بدھیا کے کوچ کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے یا نہیں۔

براچی داس کا کہنا ہے کہ متعلقہ وزیر ان کو دھمکا رہی ہیں کیونکہ انہوں نے ان کے اور بچے کے خلاف غلط بیانات دینے پر وزیر مذکور کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔ اس ضمن میں انہیں بارہ جنوری کو مقامی عدالت میں پیش ہونا ہے۔

برانچی داس نے بتایا کہ بچے کو اس کی ماں نے غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر ایک شخص کے ہاتھ آٹھ سو روپے میں بیچ ڈالا تھا اور کچھ عرصہ بعد برانچی داس نے اس شخص کو بلا کر اس کے پیسے واپس کر دیے تھے۔