Tuesday, 03 January, 2006, 11:32 GMT 16:32 PST
بنگلور میں ایک سائنس کانفرنس پر ہونے والے حملے کے سلسلے میں پولیس نے شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے ایک مبینہ کارکن کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس کمشنر اجے کمار سنگھ کے مطابق پینتیس سالہ عبدالرحمان کو منگل کے روز عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے انہیں چودہ دن کے لیے پولیس ریمانڈ میں دیدیا ہے۔
پولیس کمشنر نے بدھ کے روز کیے جانے والے حملے میں عبدالرحمان کے کردار کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔
بدھ کو معروف قومی ادارے انڈین انسٹیٹیوٹ آف سانس میں ایک کانفرنس کے دوران کیے جانے والے حملے میں ایک پروفیسر ہلاک اور دیگر چار زخمی ہوگئے تھے۔
تاہم پولیس کمشنر اجے کمار نے بتایا کہ عبدالرحمان وہ شخص نہیں ہیں جس نے چینی ساخت کے اے کے چھپن مشین گن سے سائنسی کانفرنس کے مندوبین پر فائرنگ کی تھی۔
بنگلور پولیس نے فائرنگ کرنے والے شخص کا کمپیوٹر سے بنایا گیا خاکہ ذرائع ابلاغ میں جاری کیا ہے۔
لیکن پولیس نے عبدالرحمان کی تصویر شائع کرنے پر یہ کہتے ہوئے روک لگادی ہے کہ ایسا کرنے سے کیس کی تحقیقات متاثر ہوسکتی ہیں۔
پولیس کمشنر نے بتایا کہ عبدالرحمان کو پڑوسی ریاست آندھر پردیش میں اس کے آبائی شہر نالگونڈا سے پہلی جنوری کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کمشنر نے بتایا: ’اس گرفتاری سے تحقیقات میں کامیابی ملے گی۔ یہ کہنا جلدبازی ہوگی کہ وہ خود اس حملے کا منصوبہ ساز ہے یا صرف اس میں ایک معاون تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ وہ جنوبی بھارت میں لشکر طیبہ کے سربراہ ہیں۔ ان کی گرفتاری سے مزید حملے روکنے میں مدد ملے گی۔‘