Thursday, 29 December, 2005, 10:51 GMT 15:51 PST
بھارت کے جنوبی شہر بنگلور میں پولیس نے ایک بین الاقوامی سائنسی کانفرنس میں ہندوستانی پروفیسر کے قاتل کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔
بدھ کی شام ایک مسلح شخص نے انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس میں ہونے والی کانفرنس کے دوران اندھا دھند فائرنگ کرکے ایک ریٹائرڈ پرفیسر ایم سی پوری کو ہلاک کر دیا تھا۔
حملہ آوور فائرنگ کے بعد موقع واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
بنگلور میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے حملے میں استعمال ہونے والی رائفل اور گرینیڈ برآمد کر لیے ہیں۔
پولیس نے ریلوے سٹیشنوں، سڑکوں اور ہوائی اڈوں پر ناکہ بندی کر دی ہے جبکہ شہر کے ہوٹلوں کی بھی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔
تاہم ابھی تک وہ ان حملہ آوور یا حملہ آووروں کو گرفتار نہیں کر پائے ہیں جنہوں نے کانفرنس کے آڈیٹوریم سے باہر آنے والے سائنسدانوں پر فائرنگ کی تھی۔
![]() | |
| انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس تحقیق کا ایک معتبر ادارہ سمجھا جاتا ہے |
زخمی ہونے والے افراد انسٹیٹیوٹ میں کام کرنے والے سائنسدان اور لیبارٹری کے تکنیکی ماہر ہیں۔ بنگلور میں واقع انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس ملک کا معروف سائنسی ادارہ ہے۔
زخمی ہونے والوں میں پروفیسر وجے چندرو بھی ہیں جو پام کمپیوٹر یعنی چھوٹے کمپیوٹر جس کا نام سِمپیوٹر رکھا گیا ہے، کے موجد ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی حالت کتنی سنگین ہے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام کے ساڑھے سات بجے پیش آیا جب سائنسدانوں کی ایک کانفرنس جاری تھی۔
ریاست کرناٹک کے چیف منسٹر دھرم سنگھ نے جمعرات کے روز سکیورٹی کے معاملے پر ایک ہنگامی اجلاس طلب کی ہے۔ ان کے دفتر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس حملے میں کوئی دہشت گرد ملوث ہے یا نہیں۔‘
دوسری طرف بنگلور پولیس کے سربراہ نے بھی اس امکان کو رد نہیں کیا کہ حملے میں غیر ملکی شدت پسند ملوث ہو سکتے ہیں حالانکہ نہ ہی ابھی تک اس کے کوئی شواہد ملے ہیں اور نہ ہی حملے کی وجہ معلوم ہو سکی ہے۔