Wednesday, 28 December, 2005, 18:49 GMT 23:49 PST
بھارت کے جنوبی شہر بنگلور میں سائنس کانفرنس پر ایک شخص کی فائرنگ سے ایک پروفیسر ہلاک ہو گیا۔
انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس میں ہونے والے خود کار ہتھیار کے اس حملے میں تین دیگر افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ حملہ آور گاڑی میں فرار ہو گیا۔
پروفیسر ایم سی پوری جن کا تعلق دلی کے انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تھا، ہسپتال کے راستے میں دم توڑ گئے۔ پولیس نے شہر میں مختلف جگہوں پر ناکہ بندی کر دی ہے۔
اس حملے میں زخمی ہونے والے زیادہ تر افراد سائنسدان اور لیبارٹریوں میں کام کرنے والے ہیں۔ انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس بھارت کے ٹیکنالوجی کے لحاظ سے مشہور شہر بنگلور کا ایک مشہور ادارہ ہے۔
یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً شام ساڑھے سات بجے کیا گیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور ایک ’ایمبیسیڈر‘ گاڑی میں آئے۔ ان میں سے ایک نے باہر نکل کر اندھا دھند فائرنگ کر دی اور اس کے بعد وہ فرار ہو گئے۔
زحمی ہونے والوں میں پروفیسر وجے چندرو بھی شامل ہیں جو کہ بھارت کے ’سمپیوٹر‘ نامی ’ڈیویلپمنٹ پام کمپیوٹر‘ کے بانی ہیں۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ دھرم سنگھ نے جمعرات کے روز ہنگامی میٹنگ طلب کر لی ہے۔ ان کے دفتر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ’ہم اس وقت کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اس میں دہشت گرد ملوث ہیں یا نہیں‘۔
یہ واقعہ ابو سالم کو جھوٹ پکڑنے والے آلات کے سامنے پیش کرنے کے لیے بنگلور لائے جانے کے چند گھنٹے بعد پیش آیا ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی ان دو واقعات کے باہم تعلق کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اس سمت میں تفتیش کی جا رہی ہے۔