Wednesday, 28 December, 2005, 22:45 GMT 03:45 PST
پولیس کے مطابق بھارت کے جنوبی شہر بنگلور میں منعقد ہونے والی ایک سائنسی کانفرنس میں فائرنگ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ایک پروفیسر ہلاک ہوگئے ہیں۔
ایک مسلح شخص انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس میں ہونے والی کانفرنس کے دوران اندھا دھند فائرنگ کرکے ایک کار کے ذریعے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس کے مطابق پروفیسر ایم سی پوری اس فائرنگ میں ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر چار افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے شہر میں چاروں طرف سکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے ہیں۔
زخمی ہونے والے افراد انسٹیٹیوٹ میں کام کرنے والے سائنسدان اور لیبارٹری کے تکنیکی ماہر ہیں۔ بنگلور میں واقع انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس ملک کا معروف سائنسی ادارہ ہے۔
زخمی ہونے والوں میں پروفیسر وجے چندرو بھی ہیں جو پام کمپیوٹر یعنی چھوٹے کمپیوٹر جس کا نام سِمپیوٹر رکھا گیا ہے، کے موجد ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی حالت کتنی سنگین ہے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام کے ساڑھے سات بجے پیش آیا جب سائنسدانوں کی ایک کانفرنس جاری تھی۔
پولیس نے بتایا ہے کہ مسلح افراد ایک امباسڈر کار کے ذریعے آئے اور اس میں ایک شخص باہر آیا اور اس نے کانفرنس ہال کے پاس اندھادھند فائرنگ شروع کردی۔
ریاست کرناٹک کے چیف منسٹر دھرم سنگھ نے جمعرات کے روز سکیورٹی کے معاملے پر ایک ہنگامی اجلاس طلب کی ہے۔ ان کے دفتر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس حملے میں کوئی دہشت گرد ملوث ہے یا نہیں۔‘
یہ حملہ اس وقت پیش آیا جب مافیہ سرغنہ ابو سالم کو جھوٹ پکڑنے والے آلے پر ٹیسٹ کے لیے بنگلور لایا گیا ہے۔
ابو سالم کو انیس سو ترانوے کے ممبئی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے شبہے میں اسی سال پرتگال سے ایک عدالتی کارروائی کے بعد بھارت کے حوالے کیا گیا ہے۔