http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 23 December, 2005, 07:23 GMT 12:23 PST

بھارت اور امریکہ کے جوہری مذاکرات

بھارتی سیکرٹری خارجہ شیام سرن نے اپنے دورۂ واشنگٹن کے دوران امریکی وزیرِخارجہ کونڈالیزا رائس سے ملاقات کی ہے۔

اس ملاقات کے دوران جوہری معاملات سمیت دیگر امور پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ ملاقات کے بعد شیام سرن کا کہنا تھا کہ بھارت کو امریکہ کی پرامن جوہری توانائی تک رسائی کے حوالے سے اس ملاقات کے نتائج نہایت حوصلہ افزاء ہیں۔

شیام سرن نے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ اس ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کس طرح ہو گا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں بات چیت کا دوسرا دور آئندہ ماہ بھارت میں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہمیں صدر بش کے دورۂ بھارت سےقبل اس معاملے پر قابلِ ذکر کوششیں کرنی ہوں گی‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملک صدر بش کے دورۂ بھارت کی تیاری کر رہے ہیں جو کہ آئندہ برس کے اوائل میں متوقع ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے پر جولائی میں بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ کے دورۂ امریکہ کے دوران دستخط ہوئے تھے۔ تاہم بھارت کے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے اس معاہدے کو قابلِ عمل بنانے کےلیے امریکی قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔

امریکی کانگریس نے ابھی تک امریکہ اور بھارت کے درمیان پرامن جوہری پروگرام کے معاہدے کی توثیق نہیں کی ہے اور کانگرس کے کئی رکن اس معاہدے کے مخالف ہیں۔ یہ معاہدہ کانگریس کی جانب سے توثیق کے بعد ہی قابلِ عمل ہو سکتا ہے۔

اس معاہدے کی صورت میں بھارت اپنی غیر فوجی ایٹمی تنصیبات کو بین الاقوامی معائنہ کاروں کے لیے کھول دے گا اور امریکی کمپنیوں کو بھارت میں جوہری بجلی گھر بنانے اور جوہری ری ایکٹروں کے لیے ایندھن فراہم کرنے کی اجازت ہو گی۔

اس معاہدے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور بھارت کے درمیان یہ معاہدہ طے پا گیا تو ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خاتمے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ 1998 میں بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کے بعد امریکہ نے بھارت کو جوہری مواد فراہم کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔