Wednesday, 14 December, 2005, 13:34 GMT 18:34 PST
بھارتی ریاست گجرات میں ایک عدالت نے دو ہزار دو میں ہونے والی مذہبی فسادات کے دوران گیارہ مسلمانوں کے قتل کے الزام میں گیارہ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
قتل کیے جانے والوں کو، جن میں چار عورتیں اور پانچ بچے شامل تھے، مشتعل ہندو ہجوم نے کنویں میں دھکیل دیا تھا۔
ان گیارہ ملزمان کو گودھرا میں ایک خصوصی عدالت نے یہ سزا سنائی۔ اس کیس کے دوران تقریباً اسّی گواہوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔
وکیل صفائی نور محمد شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کیس میں اکیس دیگر ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے فیصلے میں عدالت نے اسی گاؤں میں مسلمانوں کے گھروں پر حملہ کرنے کے الزام میں تین افراد کو دس سال کی قید کی سزا سنائی۔
دو ہزار دو میں ایک مسلمان ہجوم کے ہاتھوں ہندو زائرین سے بھرے ٹرین کے ڈبے پر مبینہ حملے میں ساٹھ ہندو مسافر ہلاک ہو ئے تھے۔ اس کے بعد گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے۔
ان فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو ہزار کے قریب تھی۔
احمدآباد میں بی بی سی کے نامہ نگار راجیو کھنّہ کا کہنا ہے کہ مسلمان اقلیت پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے یہ ایک نہایت ہی اہم کیس ہے کیونکہ اب تک بہت کم کیس عدالت تک پہنچے ہیں۔
گجرات کی ریاستی بی جے پی حکومت پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اس نے فسادات کو روکنے اور پھر مجرموں کو انصاف دلانا کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے۔ فسادات کے دوران متاثرین کی مدد نہ کرنے پرگجرات کی پولیس اور مقامی انتظامیہ پر بھی سخت تنقید ہوتی رہی ہے۔