Saturday, 10 December, 2005, 01:18 GMT 06:18 PST
ایم ایس احمد
پٹنہ
انتہا پسند ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کے بین الاقوامی جنرل سیکریٹری پروین توگڑیا آج کل بہار کے دورے پر ہیں اور دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی بتا رہے ہیں کہ رابڑی دیوی ان کے لۓ مثالی خاتون کا درجہ رکھتی ہیں۔
توگڑیا اور انتہاپسند ہندو تنظیموں کے لۓ لالو پرساد کی تنقید سے دنیا واقف ہے اور ان تنظیموں کی جانب سے لالو اور ان کی حکومت کی بھی شدید مذمت ہوتی رہی ہے۔ لالو جب بر سراقتدار تھے تو انہوں نے لعل کرشن اڈوانی کو رام رتھ یاترا کے دوران گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔
اسی طرح رابڑی حکومت نے سن دو ہزار تین میں پروین توگڑیا کو پٹنہ ایئر پورٹ سے ہی واپس کر دیا تھا۔
ماضی کی ان تلخ باتوں کے باوجود توگڑیا اگر رابڑی کے مداح بنے ہیں تو اس کے لۓ وجہ بھی بڑی دلچسپ ہے اور وہ بھی تب جب کہ ان سے حکومت چھن چکی ہے۔
ہندی کی ایک کہاوت ہے دودھو نہاؤ پوتوں پھلو۔ توگڑیا نے رابڑی دیوی کی تعریف اس کہاوت کے دوسرے حصے کے لۓ کی ہے۔
رابڑی حکومت کے زوال کے ابھی دو ہفتے بھی نہیں ہوئے کہ توگڑیا بہار کے دورے پر مختلف شہروں میں تقاریر کر رہے ہیں۔ اپنی تقریروں میں رابڑی دیوی کو اس لۓ مثالی خاتون بتا رہے ہیں کہ ان کی نو اولاد ہیں۔ توگڑیا یہ اپیل بھی کر رہے ہیں کہ ملک کی تمام ہندو خواتین کو افزائش نسل کے معاملے میں رابڑی دیوی کی راہ اختیار کرنی چاہۓ۔
خود لالو پرساد اپنی کثیر الاولادی کے لۓ یہ دلیل دے چکے ہیں کہ ان کے زیادہ تر بچے اس وقت ہوئے جب وہ حزب اختلاف میں تھے۔ یہاں تک کہ ایمرجنسی کے دوران کے بدنام زمانہ قانون ’میسا‘ کے نام پر لالو نے اپنی ایک بیٹی کا نام میسا دیوی رکھ دیا۔
وشو ہندو پریشد کے علاوہ ایک اور قدامت پسند ہندو تنظیم آر ایس آر ایس یعنی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اس بات پر ہمیشہ اپنے تفکرات کا اظہار کرتی رہی ہے کہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اور اسی کو وجہ بتاکر دونوں تنظیمیں ہندوؤں سے اپنی آبادی بڑھانے کی اپیل کرتی رہی ہیں۔
بہر حال توگڑیا نے رابڑی دیوی کی کثیر الاولادی کے لۓ تعریف تو کر دی مگر شاید رابڑی کی گایوں کے لۓ تعریفی کلمات کہنا بھول گۓ کیوں کہ رابڑی کی گائیں کافی نام کما چکی ہیں اور توگڑیا کی تنظیم گائے کی نسل افزائش اور اس کے ذبیحے پر پابندی کے لۓ بھی کافی محنت کر رہی ہے۔