http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 01 December, 2005, 00:35 GMT 05:35 PST

ایڈز دیہاتوں میں نہ پھیل جائے

بھارت میں محکمۂ صحت کے عملداروں کا کہنا ہے کہ ایڈز کے مرض کا ملک کے دیہی علاقوں میں پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے کیونکہ وہاں طبی سہولتیں انتہائی کم ہیں۔

بھارت کی طرف سے ان خدشات کا اظہار ایڈز کو کنٹرول کرنے کے لیے قائم کی گئی تنظیم کی سربراہ سجاتا راؤ نے ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر کیا ہے جو کل منایا جا رہا ہے۔

دریں اثناء حکومت کا اصرار ہے کہ سرکاری طور پر جاری کیے جانے والے وہ اعداد و شمار درست ہیں جن کے مطابق بھارت میں ایچ آئی وی سے متاثر افراد کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

بھارت میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکاون لاکھ کے قریب افراد یا ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں یا پھر ایڈز کے وائرس سے متاثر ہیں۔

ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد کے لحاظ سے بھارت جنوبی افریقہ کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے۔ جنوبی افریقہ میں ایڈز زدہ یا ایچ آئی وی انفکیشن سے متاثرہ افراد کی تعداد ترپن لاکھ ہے۔

سجاتا راؤ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تشویش اس بات پر ہے کہ یہ مرض دیہاتوں میں پھیل جانے کا خطرہ ہے۔ پہلے ہمارا یہ خیال تھا کہ ایڈز کا مرض صرف شہروں میں ہی ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کے ایڈز کے چیف پیٹر پیئٹ کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے ایڈز سے متاثرہ یا ایڈز زدہ افراد کی جو تعداد جاری کی گئی ہے وہ غلط ہے لیکن بھارت کے وزیرِ صحت امبومنی رومودوس کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار درست ہیں۔

امبومنی رومودوس کے مطابق عالمی ادارۂ صحت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سن دو ہزار چار میں بھارت میں ایڈز سے متاثر افراد کی تعداد اٹھائیس ہزار تک کم ہوئی ہے۔ ایک برس پہلے یہ تعداد پانچ لاکھ بیس بیس ہزار تھی۔

تاہم انہوں نے کہا ’مجھے یقین ہے کہ بہار، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، پنجاب، راجھستان اور شمال مشرق میں ایڈز کے کئی متاثر شمار ہی میں نہیں آئے ہوں گے۔‘

رضاکاروں کے گروپ اور اقوامِ متحدہ کے ادارے یواین ایڈز کا کہنا ہے کہ حکومت کے دعوؤں کے برعکس بھارت میں ایج آئی وی وائرس سے انفیکشن کی شرح بہت زیادہ ہے۔