Tuesday, 22 November, 2005, 10:36 GMT 15:36 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، دلی
ہندوستان نے کہا ہے کہ اس مہینے کے اوائل میں ڈھاکہ میں پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز اور ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ کی ملاقات میں کشمیر کے حوالے سے ’سیلف گورنینس‘ کا ذکر ضرور آیا تھا لیکن اس سلسلے میں کوئی تجویز نہیں پیش کی گئی تھی۔
وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گیے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ اس سلسلے میں کوئی تجویز نہیں آئی ہے اس لیے رد عمل کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
’ مسٹر شوکت عزیز نے جموں و کشمیر کے سوال کے حل کے سلسلے میں یہ کہا تھا کہ دونوں ملکوں کو ’سیلف گورنینس‘ اور ’غیر فوجی خطے‘ جیسے امکانات کا جائزہ لینا چاہیئے۔ سیلف گورنینس جیسی کوئی تجویز نہیں تھی جس پر ردعمل دیا جائے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں ہندوستان کے آئين کے تحت پہلے سے ہی خود مختاری ہے اور وہاں آزادانہ انتخابات کے ذریعے ایک منتخب حکومت قائم ہے۔
تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ’واضع طور پر خود مختاری کی کمی ہے اور گلگت اور بلچستان میں تو عام انتخابات بھی نہیں ہوتے ہیں جس سے کہ عوام کی تمناؤں کا اظہار ہو پاتا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے ، مسٹر سنگھ نے یہ بھی کہا تھا کہ ’اگر سرحد پار سے دہشتگردی اور دراندازی کا سلسلہ جاری رہا اور دہشتگردانہ تشدد میں کمی نہیں آتی تو کشمیر سے فوج کم کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔‘