بھارت کے شہر ممبئی میں ایک خصوصی عدالت نے مافیا کے سرغنہ ابو سالم کے وکلاء کی اپیل مسترد کر دی جس میں انہوں نے تفتیش کے دوران موجود رہنے کی درخواست کی تھی۔
ممبئی سے بی بی سی کی نمائندہ مونیکا چڈہ کے مطابق یہ عدالت خصوصی طور پر 1993 کے بم دھماکوں کے کیس کی سماعت کے لیے قائم کی گئی ہے۔
اس درخواست پر عدالت نے کہا کہ اس موقع پر ایسا فیصلہ قبل از وقت ہوگا۔
عدالت نے وکلاء سے کہا کہ وہ مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی سے رابطہ کریں۔ گزشتہ ہفتے ابو سالم کی حوالگی کے بعد سے اب تک سی بی آئی کے حکام اس سے تفتیش کر رہے ہیں۔
جج نے کہا کہ اگر سی بی آئی کے حکام رضامند ہوں تو ابو سالم کے وکلاء دورانِ تفتیش موجود رہ سکتے ہیں۔
1993 کے ان دھماکوں میں 250 سے زائد لوگ ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
حکام کو ابو سالم سے دوسرے بہت سے کیسوں میں بھی پوچھ گچھ کرنی ہے۔ ان میں قتل، اغوا اور تاوان وصول کرنے کے سنگین الزامات شامل ہیں۔ بھارتی فلم انڈسٹری کے کئی پروڈیوسر اور فنکار ان وارداتوں کا شکار بنے۔
ابو سالم کے کیس کی اگلی تاریخِ سماعت 23 نومبر ہے۔
حیدر آباد سے بی بی سی کے نمائندہ عمر فاروق نے بتایا کہ سی بی آئی کے حکام نے بالی وڈ کی سابقہ ہیروئین مونیکا بیدی کو اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔ مونیکا کو بھی پچھلے ہفتے ابو سالم کے ہمراہ بھارتی حکومت کے حوالے کیا گیا تھا۔
جنوبی ریاست آندھرا پردیش کی ایک عدالت نے مونیکا کا ریمانڈ دیا۔
سی بی آئی کے حکام کو مونیکا سے جعلی پاسپورٹ رکھنے کے الزام میں پوچھ گچھ کرنی ہے۔
مونیکا کو حیدر آباد کی چنچل گدا جیل میں رکھا گیا ہے۔