Tuesday, 15 November, 2005, 02:07 GMT 07:07 PST
نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
بہار میں گزشتہ رات جہان آباد کی ایک جیل پر ماؤ نواز انتہا پسندوں کے حملے کے بعد حزب اختلاف کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیرِداخلہ کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
حزب اختلاف کے اس مطالبے کو گانگریس پارٹی نے مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان آنند شرما نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک تشویشناک معاملہ ہے اور اسے سیاسی رنگ دینا غلط ہوگا‘۔
وزيرِداخلہ کے استعفی کے متعلق مسٹر شرما نے کہا کہ ’ہندوستان کی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد اس قت کے وزیرِداخلہ لال کرشن اڈوانی نے جب استعفی نہیں دیا تھا تو اس واقعہ کے بعد وزیر داخلہ کو برطرف کرنے کا سوال کیسے پیدا ہوتا ہے‘۔
اس دوران واقعہ کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے جہان آباد پہنچنےوالے صحافیوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے جس میں کئی صحافی زخمی ہوئے ہیں۔
اس واقعہ کے بعد ریاستی پولیس نے جیل کے اطراف کا محاصرہ کر لیا ہے اور سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔
مرکزی حکومت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حفاظتی انتظامات میں غفلت کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آيا ہے۔ داخلہ سکریٹری وی کے دگّل نے بتایا کہ ’یہ کہنا غلط ہوگا کہ اس پورے معاملے کے بارے میں خفیہ ایجنسی معلومات نہیں تھیں لیکن جو لوگ اس واقعہ کے ذمےدار ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘۔
مسٹر دگل نے بتایا کہ حفاظتی انتظامات مزيد بہتر بنانے کے لیے سکیورٹی کمپنیاں جہان آباد بھیجی جا رہی ہیں۔
گزشتہ رات تقریبا نو بجے ایک ہزار سے زیادہ ماؤ نواز انتہا پسندوں نے جہا ن آباد کی ایک جیل پر حملہ کیا تھا۔ جس میں وہ مقامی کمانڈر اجے کانو سمیت کئی ماؤنواز ساتھیوں کو جيل سے چھڑا کر لے گئے تھے۔ اس حملے میں دو پولیس والوں سمیت چار افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔
![]() | |
| ولیس اہلکار وہ پلے کارڈ دیکھ رہے ہیں جو حملہ آور حملے کے بعد چھوڑ کر گئے |
بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اس حملے کے بعد صبح تک جیل کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور صحافی اسی دروازے سےجیل میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب پولیس نے ان صحافیوں کو جیل میں داخل ہونے سے روکا تو وہاں افراتفری مچ گئی اور نوبت لاٹھی چارج تک پہنچ گئی۔
جہان آباد ضلع ریاست بہار کے اس علاقے میں ہے جہاں ماؤنواز انتہا پسندوں کا اثر کافی زیادہ ہے۔