Monday, 14 November, 2005, 04:35 GMT 09:35 PST
بہار کے ایک ضلع جہان آباد میں ماؤنواز باغیوں نے جیل، پولیس لائن اور پولیس سٹیشن پر الگ الگ حملے کیے ہیں اور اپنے ایک رہنما اجے کانو سمیت سینکڑوں ساتھیوں کو چھڑا لیا جب کہ سینکڑوں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
جیل پر کیے جانے والے حملے کے نتیجے میں ایک پولیس والے سمیت دو افراد ہلاک بتائے جاتے ہیں۔ جب کہ ایک اور لاش ملی ہے جس کے بارے پولیس کا خیال ہے کہ اسے بھی حملہ آووروں نے ہلا کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پانچ سے آٹھ سو کے لگ بھگ ماؤ باغی گروہوں نے جیل اور جہان آباد کی پولیس لائن، جیل اور ایک پولیس سٹیشن پر الگ الگ حملے کیے۔
جیل پر حملے کے نتیجے انہوں نہ صرف اپنے سینکڑوں ساتھیوں کو چھڑا لیا بلکہ اپنے حریف زمینداروں کے گروہ کے قیدیوں کو بھی اغوا کر کے لے گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی گنتی کی جا رہی ہے اور ان کا خیال ہے کہ دس سے تین سو قیدیوں کو رہا یا اغوا کرایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پولیس کا کہنا ہے کہ جیل پر حملہ کرنے والے ہتھیار بھی لوٹ کر لے گئے ہیں۔
ماؤ وادیوں کے ایک اور گروہ نے پولیس کے مطابق پولیس لائن پر بھی حملے کیا لیکن تین گھنٹے کے مقابلے کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔
![]() | |
| حکومت اور ماؤ نواز باغیوں کے درمیان مذاکرات بھی ہوتے رہے ہیں |
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آووروں نے حملے کے بعد وہاں ایک بینر بھی چھوڑا ہے جس پر لکھا ہوا ہے کہ یہ حملہ اسی دن کیا گیا جس دن روں میں انقلاب آیا تھا۔
جہان آباد ریاستی دارالحکومت پٹنہ سے ساٹھ کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور مقامی پولیس کی مدد کے لیے پٹنہ سے مزید پولیس نفری بھیج دی گئی ہے۔