Sunday, 13 November, 2005, 12:08 GMT 17:08 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
دِلی پولیس نے سرینگر میں طارق احمد ڈار نام کے ایک شخص کی گرفتاری کے بعد دارالحکومت میں ہونے والے بم دھماکوں کے واقعہ کو حل کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔
پولیس کمشنر کے کے پال نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے ہاتھ ثبوت آئے ہیں کہ ان دھماکوں میں کشمیری شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کا ہاتھ تھا۔
مسٹر پال نے بتایا کہ گزشتہ انتیس اکتوبر کو دِلّی میں تین مختلف مقامات پر ہونے والے بم دھماکوں میں طارق کے علاہ کم از کم چار افراد ملوث تھے جن میں سے دو کا تعلق ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہے اور دو غیر ملکی بتائے گئے ہیں۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ ان سبھی شدت پسندوں کو شناخت کر لیا گیا ہے اور انکی گرفتاری کسی بھی وقت متوقع ہے۔
طارق احمد ڈار کا تعلق سرینگر سے ہے اور وہ دواؤں کی ایک کثیر الملکی کمپنی میں کام کرتے ہیں ۔ انہیں دس نومبر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے سے پہلے ڈار کے بینک اکاؤنٹ میں تقریباً پانچ لاکھ روپے جمع کیے گئے تھے جو باہر سے آئے تھے۔
مسٹر پال نے بتایا کہ طارق ڈار دھماکے کے دن دِلّی میں نہیں تھے لیکن وہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں یہاں آئے تھے اور اسی وقت یہ سازش تیار کی گئی تھی۔ انکے مطابق ڈار لشکر طیبہ کے ایک اہم رکن ہیں اور وہ اس طرح کی کارروائيوں میں
’رابطہ کار، مالی معاون اور سازشی‘ کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
سرینگر سے بی بی سی کے نامہ نگار نے خبر دی ہے کہ جموں کشمیر کی پولیس نے گزشتہ دنوں طارق کی گمشدگی کی ایک رپورٹ درج کی ہے۔ رپورٹ میں لکھوایا گيا ہے کہ طارق کو بعض افراد نے اغوا کر لیا ہےاور یہ شبہہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اغواکار شاید شدت پسند تھے۔ بظاہر طارق کی گرفتاری کے سلسلے میں دِلّی پولیس نے مقامی پولیس کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔
چند روز قبل بھی فوج کے خفیہ ادارے نے جموں سے ایک شخص کو گرفتار کیا تھا اور یہ دعوٰی کیا تھا کہ یہ شخص لشکر طیبہ کا کارکن ہے اور یہی دِلّی کے دھماکوں میں ملوث تھا۔ لیکن بعد میں وہ شخص بے قصور پایا گیا۔