Friday, 11 November, 2005, 18:52 GMT 23:52 PST
نعیمہ احمد مہجور
بھارتی زیر انتظام کشمیر
زلزلے سے متاثرہ کشمیر کے سرحدی دیہات پر اگر دور سے نظر ڈالیں تو یہ یورپ کے وہ سیاحتی مقامات لگتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں سیاح سیرو تفریح کے لیے جمع ہوئے ہوں اور خیموں میں بیٹھ کر قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہوں
مگر ان دیہات کے قریب پہنچ کر دل دہل جاتا ہے اور دشوار ترین زندگی کیسی گزاری جاتی ہے اس کا بھر پور احساس ہوجاتا ہے۔
میں نے ان دیہاتوں کو صرف ایک ماہ پہلے دیکھا اور خوب لطف اٹھایا تھا۔ ان میں زندگی تھی، چہل پہل تھی اور خوش وخرم لوگ سردیوں کی تیاریوں میں مصروف نظر آرہے تھے۔
مقامی لوگوں کا ماننا تھا کہ کِل کِل کرتی ندیوں سے صاف شفاف پانی پی کر لمبی عمر ملتی ہے ۔ آج یہاں گاؤں نہیں وہ پہاڑ نہیں اور نہ وہ ندیاں سرسبز جنگلوں میں گرے ہوئے وہ گاؤں مٹی کے نیچے دب گئے ہیں پہاڑوں کی کمر کھسک گئی ہے۔
اور بعض ندیوں کا رخ نہ جانے کس جانب ہوگیا ہے اب یہ گاؤں خیمہ بستیاں کہلاتی ہیں اور ان میں متاثرہ خاندان پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ یہ لوگ بے اسرا اور بے سہارا ہیں۔ ٹھٹھرتی سردی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ لوگ کھانے سے پہلے گرم کپڑے یا کمبل مانگتے ہیں۔ ان خیموں میں رہ کر متاثرہ افراد کئی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ بچوں کے دانت بجنے لگتے ہیں مگر حکومت سے لے کر غیر سرکاری ادارں کے امدادی سامان پہنچانے کے دعووں کے باوجود ان لوگوں کو سوائے چند ہزار روپے کے کچھ نہیں ملا ہے۔
حکومت نے متاثرین کو پانچ ہزار روپے انعام کا لالچ دے کر انہیں اپنے مکان خود تعمیر کرنے کا مشورہ دیاہے مگر شدید سردی میں مکان بنانا کتنا مشکل ہے اس کا شاید حکام کو احساس نہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اینٹ سیمنٹ اور لکڑی جمع کرنے کے لیے وہ کہاں کہاں بھٹکیں گے؟ اگر مکان بنانا اتنا اسان ہے تو حکومت خود کیوں نہیں بناتی؟
میں نے کئی بار چاہا کہ ان خیمہ بستیوں کے فوٹو اتاروں مگر ان خیموں کے اندر ٹھٹھرتی سردی سے تڑپنے والوں کی حالت دیکھ کر میں جرات ہی نہیں کرسکی۔