Tuesday, 08 November, 2005, 12:06 GMT 17:06 PST
’تیل کے بدلے خوراک‘ کے پروگرام میں عراق سے فائدہ اٹھانے کے الزامات کے تحت بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ کا اس طرح فوری طور پر وزارت سے ہٹایا جانا بھارتی حکومتوں کے روایتی کردار کے برخلاف ہے۔
اقوام متحدہ کے کی وولکر کمیٹی کی رپورٹ گزشتہ منگل ہی کو جاری ہوئی ہے اور عراق کو صدام حکومت کے دور میں لگائی جانے والی پابندیوں کے دوران تیل کے بدلے خوراک کی رعایت کے پروگرام میں مبینہ بد عنوانیوں کے بارے میں تحقیقات کرنے والی اس کمیٹی کی رپورٹ میں بھارتی وزیرخارجہ کے بارے میں جو کچھ ہے وہ ابھی واضح بھی نہیں ہے۔
اس کے باوجود بھارتی نے اس سلسلے میں کوئی وقت ضائع کیے بغیر اور اس پر بہت زیادہ غور کیے بغیر کے اس کے سیاسی نتائج کیا ہو سکتے ہیں فوری اقدام کر ڈالے۔
اس میں تو شک نہیں کہ موجودہ بھارتی حکومت کے لیے اس سے پہلے اس سے بڑا کوئی اور بحران نہیں آیا۔ لیکن اس نے جو فوری اقدام کیے ہیں اس کا ایک بڑا نتیجہ تو یہ نکلے گا کہ بیان بازی کے باعث حکومت کے لیے جو ممکنہ سبکی کا مرحلہ آ سکتا تھا اس کا امکان ختم ہو گیا ہے۔
سابق بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے وزارت سے علیحدگی سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں ان الزامات کے حوالے سے کہا تھا کہ ایک تو یہ الزامات ایک ایسی حکومت کے حوالے سے سامنے آئے ہیں جس کی اب تک اپنی کوئی ساکھ نہیں ہے اور پھر انہوں نے ان الزامات کا تعلق عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار نہ ملنے میں امریکہ کی ناکامی سے جوڑا تھا۔
ان کے اس تبصرے موجودہ بھارتی انتظامیہ کا محتاط ہونا فطری تھا کیونکہ ایک تو اس نے عراق کی حال ہی میں منتخب ہونے والی موجودہ حکومت کی کھلم کھلا حمایت کی ہوئی ہے اور پھر امریکہ اس اس کے تعلقات اس وقت انتہائی دوستانہ ہیں۔
غالباً یہی وجہ تھی کہ اس نے اس بات کا فائدہ اٹھایا کے الزامات ایک بین الاقوامی رپورٹ میں لگائے گئے ہیں اور ان میں ایک ایک ایسے سینئر وزیر پر انگلی اٹھائی گئی ہے جو ملک کی وزارتِ خارجہ جیسی نازک وزارت کی قیادت کرتا ہے۔
![]() | |
| نٹور گاندھی خاندان کے انتہائی وفاداروں میں سے ہیں |
ان کا کہنا ہے کہ الزامات کا تعلق اس زمانے سے ہے جب کانگریس کی حکومت بھی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود اس نے انہیں ہٹا دیا۔
حکومت پر دباؤ کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ مذکورہ رپورٹ میں کانگریس کو بطور جماعت بھی ان الزامات میں نامزد کیا گیا ہے۔
کانگریس نے ان الزامات کی تردید کی ہے لیکن اس کے باوجود اس پر حزبِ اختلاف کا شدید دباؤ ہے اور یوں بھی بدعنوانی کے الزامات کانگریس کے لیے انتہائی حساس حیثیت رکھتے ہیں۔
اس سے پہلے 1989 میں آنجہانی وزیراعظم راجیو گاندھی کی حکومت بفور سکینڈل کی وجہ سے ختم ہوئی تھی۔ بعد میں اگرچہ راجیو پر یہ الزام ثابت نہیں ہو سکا لیکن اس کا نشان ہمشہ ان کے دامن پر رہا۔
اب چونکہ ان کی بیوہ کانگریس کی قیادت کر رہی ہیں تو ان پر اس الزام کے اثرات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے یقیناً وہ اس سے دور رہنے ہی کو ترجیح دیں گی۔ شایہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے نٹور سنگھ سے ملاقات کی تھی۔ نٹور گاندھی خاندان کے انتہائی وفاداروں میں سے ہیں اور اس کے بعد اس فیصلے کے سامنے آنے کا مطلب ہے کہ یہ بات کہیں بہت اوپر طے کی گئی ہے۔
اس کے علاوے نٹور سنگھ کو ہٹائے جانے کا فیصلے چند ہفتے بعد ہونے والے پارلیمانی اجلاس سے قبل کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اس حوالے سے کوئی اندرونی بحران نہیں چاہتی۔
اس بحران سے اس کا امکان تب نہیں کہ حکومت کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ حکومتی اتحاد میں شامل تمام ہی پارٹیاں ان الزامات کو رد کر چکی ہیں اور اب معاملہ صرف وولکر کمیٹی کی رپورٹ کی ساکھ کا ہے۔