Monday, 07 November, 2005, 11:21 GMT 16:21 PST
مشرقی بھارت میں ہزاروں مظاہرین بھارتی فضائیہ کے اس اڈے کے باہر جمع ہو گئے ہیں جہاں پیر سے بھارتی اور امریکی فضائیہ کی مشترکہ مشقوں کا آغاز ہو رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سترہ نومبر تک جاری رہنے والی ان سب سے بڑی مشترکہ فضائی مشقوں سے دونوں ممالک کے باہمی دفاعی تعاون میں اضافہ ہوگا جبکہ مشقوں کے مخالف مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشترکہ مشقیں بھارت کی قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
مغربی بنگال کی بائیں بازو کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ان مظاہرین سے نمٹنے کے لیے کلکتہ کے جنوب میں کلائی کنڈا بیس پر ہزاروں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے اور پولیس نے ہوائی اڈے کے اردگرد پچیس مربع کلومیٹر تک حفاظتی جال بچھا دیا ہے۔
کلکتہ میں بی بی سی کے نامہ نگار سبیر بھومک کا کہنا ہے کہ ان مشقوں کے خلاف کلکتہ شہر کی گلیوں میں بھی مظاہرے جاری ہیں جن کی قیادت بائیں بازو کے رہنما کر رہے ہیں۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے پرامن ہوں گے۔
مغربی بنگال کے وزیرِاعلٰی بدھادیو بھٹاچاریا کا کہنا ہے کہ ’ ہم کبھی بھی مظاہرے نہ کرتے اگر یہ مشترکہ مشقیں روس یا کسی دیگر یورپی فضائیہ کے ساتھ کی جاتیں لیکن امریکہ کے ساتھ مشترکہ مشقیں ہمیں قبول نہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ وفاقی حکومت امریکہ سے مضبوط دفاعی تعلقات استوار کر کے بھارت کی خودمختار خارجہ پالیسی پر سمجھوتہ کر رہی ہے‘۔
یاد رہے کہ بھارت میں کانگریس کی مرکزی حکومت کی اکثریت کا دارومدار انہیں بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت پر ہے اور اب کانگرس اور ان جماعتوں کے درمیان اقتصادی اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔