Wednesday, 02 November, 2005, 19:32 GMT 00:32 PST
مونیکا چڈھا
بی بی سی نیوز، ممبئی
’سب چلتا ہے‘۔ یہ ہے بھارتی کاسمیٹکس کمپنی کا خیال، جس نے مردوں کے لئے گورے پن کی کریم ایجاد کی ہے۔
’فئیر اینڈ ہینڈ سم‘ کے نام سے پیش کی گئی کریم کا پیغام ہے ’گورے بنئے یا تاریک گمنامی میں رہئے‘
اب تک گورے پن کی کریمیں صرف خواتین پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے تھیں۔ پہلی دفعہ ایسی چیز قومی سطح پر مردوں کے لئے متعارف کروائی گئی ہے۔
اس پراڈکٹ کو متعارف کروانے والی امامی انڈسٹریز کے ڈائریکٹر موہن گوئنکا نے بی بی سی کو بتایا کہ انکی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 29 فیصد بھارتی مرد یہ کریم استعمال کر رہیں ہیں۔
’ ہم نے اس کا تجربہ حیدر آباد کے جنوبی حصہ میں کیا اور اس کا ردِعمل ہماری توقع سے زیادہ اچھا رہا‘ انہوں نے بتایا۔ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ مردوں میں جلد کے متعلق شعور میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں یہ احساس ہوا کہ ایسی چیز کی طلب مارکیٹ میں پہلے ہی موجود ہے اور ہم نے اسے پورے ملک میں بیچنا شروع کر دیا۔ شروع میں ہمیں خدشہ تھا کہ مرد اسے خریدنے میں جھجک محسوس کریں گے۔ لیکن یہ خرشات بے بنیاد ثابت ہوئے‘۔
گورے پن کی مصنوعات کی بھارتی صنعت 19 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جس سے بھارتی لوگوں کی گوری رنگت پر توجہ کی عکاسی ہوتی ہے۔مائیں اپنی بچیوں کو دھوپ میں کھیلنے سے منع کرتی ہیں او ر انہیں باہر جانے سے پہلے سورج کی شعاؤں سے بچنے کی کریمیں لگانے کی تلقین کرتی ہیں کیونکہ کوئی شخص سانولی لڑکی کو دلہن نہیں بنانا چاہتا۔
مردوں کے رسالے مین ورلڈ کے مدیر جیری پنٹو کا کہنا ہے کہ سانولے مرد بھی اتنے ہی غیر محفوظ ہیں جتنی عورتیں، اور گورے رنگ کے لئے اتنی ہی محنت کرتے ہیں، چاہے وہ خفیہ ہی کیوں نہ ہو۔ ’میرا نہیں خیال کہ مرد ’لمبا سانولا اور وجیہ‘ کے نظریے سے اتفاق کرتے ہیں۔ بھارت میں اب ’لمبا گورا اور وجیہ‘ چلتا ہے۔رسالے میں شادی کے سیکشن کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ مرد اپنے آپ کو کیسے دیکھتے ہیں، اس میں ایک بھی ایسا مرد نہیں ہے جو سانولا اور پر کشش ہونے کا دعویٰ کرے۔ وہ یہی کہیں گے کہ وہ گندمی اور گورے ہیں۔ اس لئے اس ملک میں کوئی بھی سانولا شخص نہیں ہے، سب گندمی ہیں‘۔
معاشرتی نفسیات کی ماہر پروفیسر شالینی بھارت، جو کہ ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسس کے ساتھ کام کر رہی ہیں، سمجھتی ہیں کہ یہ احساسِ کمتری اس ملک کی تاریخ کا نتیجہ ہے۔’ بھارت میں ہمیشہ گورے حکمران رہے ہیں، چاہے وہ شروع کی صدیوں کے آریا ہوں یا بعد میں آنے والے یورپی۔ گورے پن کا طاقت سے تعلق ہے اس لئے گورے رنگ کو ترجیح دی جاتی ہے‘۔
ان کریموں کے زیادہ تر اشتہار یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سانولے رنگ کی وجہ سے انسان پیچھے رہ جاتا ہےجبکہ گورے رنگ سے معاشرے میں قبولیت میں اضافہ ہوتا ہے اور اسے بعض ملازمتوں کے لئے اور جنسِ مخالف کی طرف سے بھی ترجیح دی جاتی ہے۔
مردوں کے لئے متعارف کروائی گئی اس کریم کے اشتہار میں ایک سانولے لڑکے کو دکھایا گیا ہے جسے کالج میں پچھلی سیٹوں پر دھکیل دیا جاتا ہےاور لڑکیاں اسے نظر انداز کرتی ہیں۔ جب وہ کریم استعمال کرتا ہے تو جلد ہی اسکا رنگ گورا ہو جاتا ہے اور لڑکیاں اس کی جانب ایسے چلی آتی ہیں جیسے شمع کے گرد پروانے۔
پروفیسر بھارت کا کہنا ہے کہ ایسے اشتہار بھارتی معاشرے کے لئے اچھے نہیں ہیں کیونکہ یہ ایسے ملک میں گورے رنگ کا پرچار کر رہے ہیں جہاں زیادہ تر آبادی کا رنگ سانولا ہے۔
تاہم اشتہار اسکی مانگ بڑھانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ جنوبی ممبئی کے ایک بڑے سٹور میں مرد دیگر اشیاء کے ساتھ کریم خریدنے میں شرمندگی نہیں محسوس کر رہے۔
![]() | |
| مرد بھی خوبصورت لگنا چاہتے ہیں |
امیت گائک ود کا کہنا ہے کہ وہ کریم کو اپنے تجسس کے لئے استعمال کرنا چاہیں گے۔’ میرا خیال ہے کہ یہ ہر شخص پر منحصر ہے، کچھ گورے ہونے کو ترجیح دیتے ہیں اور کچھ نہیں دیتے۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں، میرے خیال میں آپ کو ایسے ہی رہنا چاہئے جیسے آپ ہیں‘۔