Monday, 31 October, 2005, 15:55 GMT 20:55 PST
پاکستان نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی جانب سے کی جانے والی اس تنقید کو مسترد کر دیا ہے کہ دلی میں دھماکے کرنے والوں کے ان غیر ملکی گروپوں سے روابط تھے جن کے مراکز پاکستان میں ہیں۔
اس سے قبل بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف سے ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران کہا کہ بھارت 29 اکتوبر کے دھماکوں میں بیرونی دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے اشاروں سے مضطرب و مایوس ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بھارتی تنقید کے جواب میں کہا کہ پاکستانی صدر نے بھارتی وزیراعظم کو بتایا تھا کہ ’ہم تحقیقات میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں تاہم ہمیں بھی ملنے والے ثبوت فراہم کیے جانے چاہیں کیونکہ ان کی غیر موجودگی میں کسی پاکستانی گروہ پر انگلی اٹھانا محض ایک دعویٰ کرنے کے مترادف ہو گا‘۔
بی بی سی کے نامہ نگار سنجے موجمدار کے مطابق بھارت کاخیال ہے کہ بم دھماکوں میں پاکستان سے تعلق یا رابطہ رکھنے والے گروہ ملوث ہیں۔
جنرل مشرف نے وزیراعظم منموہن سنگھ کو پیر کی شام فون کرکے نئی دہلی کے دھماکوں اور آندھر پردیش میں ٹرین حادثے میں لوگوں کی جانیں ضائع ہونے پر تعزیت کا اظہار کیا۔
نئی دہلی میں ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ منموہن سنگھ نے صدرِ پاکستان کو بتایا کہ ملک میں اس بھیانک دہشت گرد کارروائی پر غم و غصہ ہے۔
وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا: ’دہشت گردی ملکی سالمیت اور یکجہتی کے بارے میں ہماری قوتِ ارادی اور عزم کو کمزور نہیں کرسکتی۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ منموہن سنگھ نے سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے پاکستان کے وعدے کی جانب جنرل پرویز مشرف کی توجہ دلائی اور کہا کہ انہیں
پاکستان سے امید ہے کہ وہ ہندوستان مخالف دہشت گردی کے خلاف اقدام کرے گا۔