Monday, 31 October, 2005, 19:12 GMT 00:12 PST
نادیہ پرويز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی
بم دھماکوں کے دو روز بعد دلی شہر تو رفتہ رفتہ معمول پر آ رہا ہے لیکن ان دھماکوں میں شکار ہونے والے افراد کے کئی لواحقین اب بھی اپنے رشتےداروں کی تلاش میں ہیں۔ بم دھماکوں اور ان سے لگی آگ میں لاشوں کے جھلسنے کے سبب ان کی شناخت میں شدید دقت پیش آ رہی ہیں۔ شناخت کرنے میں مزيد دقت اس وجہ سے بھی پیدا ہوئی ہے کہ ایک لاش کے ایک سے زیادہ دعویدار پیدا ہوگئے ہیں۔
انوپم گپتا کا چار سالہ بیٹا اتکرش بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ جب وہ اس کی لاش لینے کے لی ے استپال پہنچے تو وہاں بلبیر سنگھ بھی موجود تھے جن کا دعوی تھا کہ وہ مردہ جسم انکے بھتیجے نکھل کا ہے جس کے والد اور بھائی بھی سروجنی نگر بم دھماکے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ انوپم کو اب صرف ڈی این اے کی جانچ سے ہی امید ہے جو اب بدھ کو یعنی دیوالی کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔ مسٹر گپتا نے بتایا کہ دیولی کے سبب چھٹی ہے اور قانونی طور مردہ جسم بہتر گھنٹے بعد ہی آخری رسومات کے لیے لواحقین کو دیا جائے گا۔
بلبیر سنگھ کے بھتیجے کے علاوہ ان کی بھتیجی کی بھی شناخت کا معاملہ پیچدہ ہو گیا ہے۔ وہ جس مردہ جسم کو اپنی بھتیجی کی لاش ہونے کا دعوی کر رہے ہیں اسی کو آسام کے اپورو شرما اپنی بیٹی میتری کی لاش بتا رہے ہيں۔ اپورو شرما کے خاندن سے آٹھ افراد دھماکوں کے وقت سروجني نگر مارکیٹ میں موجود تھے ان میں سے پانچ لوگ ہلاک ہو چکے ہيں اور تین ذخمی حالت میں اسپتال میں ہیں۔
اس دوارن دلی پولیس اب تک یہ پتہ لگانے میں ناکام رہی ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے کون ہے پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیشی کارروائی ابھی جاری ہے اور انہیں اس معاملے میں کئی پختہ ثبوت حاصل ہوئے ہیں۔
کل دیوالی ہے جس کی وجہ سے بازاروں میں کافی رونق ہے۔ پولیس نے تہوار کے دوارن کسی بھی گڑبڑ کے اندیشے کے پیش نظر سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔