Tuesday, 20 September, 2005, 01:56 GMT 06:56 PST
ادھر بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ہر کارروائی کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں توسیع کا معاملہ بھی ایک بار پھر سے اٹھایا ہے۔
نیویارک سے بی بی سی کے نامہ نگار راجیش جوشی کے مطابق بھارت کے وزیرِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ میں شدت پسندی اور سلامتی کونسل میں توسیع پر بات تو کی لیکن ساتھ ہی ان کی تقریر میں جواہر لال نہرو کے سوشلزم کی گھونج بھی شامل تھی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سبھی کارروائیوں کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بین الاقوامی برادری کے اس فیصلے کی جھلک اجلاس میں منظور کیے گئے دستاویز میں دیکھی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم مانتے ہیں کہ ان فیصلوں کو عملی شکل دینے اور سب کو راضی کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ سے بہتر اور کوئی ادارہ نہیں ہو سکتا۔ پچھلے بیس سال سے دہشت گردی کا شکار ہونے کی وجہ سے بھارت اقوامِ متحدہ کی جانب سے کی جانے والی سبھی کارروائیوں کی ضرورت کو سمجھتا ہے اور اس کی پوری تائید کرتا ہے‘۔
حالانکہ اقوامِ متحدہ میں مستقل نشست کی بھارت کی دعویداری اس بار کوئی رنگ نہیں لائی لیکن پھر بھی نٹور سنگھ نے کہا کہ اب نہ تو سلامتی کونسل میں تبدیلی کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بھارت کی دعویداری کو۔
انہوں نے بھارتی وزیرِ اعظم نٹور سنگھ کے الفاظ کو لگ بھگ دہراتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ میں جمہوریت کی کمی ہے۔