http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 28 August, 2005, 15:34 GMT 20:34 PST

مسلم لاء بورڈ نے ٹیم بنا لی

ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک سرکردہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا ہے کہ اس نے علماء اور دانشورں پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اس سوال پر بورڈ کے ردِ عمل کو حتمی شکل دے گی کہ اسلامی عدالتوں کی قانونی حیثیت کیا ہے۔

بورڈ کے جانب سے اس فیصلے کا اعلان اتوار کو دہلی میں بورڈ کی مجلسِ عاملہ کے ایک اجلاس کے بعد کیا گیا۔

بورڈ کے ایک ترجمان عبدالرحیم قریشی نے کہا ہے کہ بورڈ سپریم کورٹ کے سامنے اس بات کی وضاحت کرے گا کے اسلامی عدالتیں عدلیہ کی متوازی نہیں بلکہ تکمیلی یا کمپلیمنٹری حیثیت کی حامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامی عدالتیں محتلف النوع خاندانی تنازعات کو نمٹانے میں مصالحت کارانہ کردار ادا کرتی ہیں اور اپنے اس کردار کے ذریعے عدلیہ کا کام اور بوجھ کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

ہندوستانی سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے مسلم پرسنل لاء بورڈ، دارالعلوم دیوبند اور ہندوستان کی ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو اس سلسلے میں نوٹس جاری کیے تھے۔

یہ نوٹس عدالت میں مفادِ عامہ کے تحت لائے جانے والے اس مقدمے کے بعد جاری کیے گئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اسلامی عدالتیں ملک میں عدالتی نظام کی حیثیت کے لیے ایک چیلنج ہیں۔

اس درخواست میں عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ اسلامی عدالتوں کو مسلمانوں کے ازدواجی امور میں مداخلت کرنے سے روکا جائے۔