Wednesday, 03 August, 2005, 14:33 GMT 19:33 PST
ارشد افضال خان
ایودھیا
بابری مسجد و رام مندر جنم بھومی کے تنازع کے سبب ایودھیا شہر برسوں سے خبروں میں رہا ہے۔ گزشتہ پانچ جولائی کو بعض شدت پسندوں نے منہدم بابری مسجد کے متنازع مقام پر حملہ کیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ان شدت پسندوں کا مقصد اس مقام پر واقع عارضی رام مندر کو تباہ کرنا تھا۔
تقریبا دو گھنٹے تک گولیاں چلیں راکٹ داغے گئے۔ اس حملے میں سبھی شدت پسند مارے گئے اور متنازعہ مندر کو معمولی سا بھی نقصان نہیں پہنچا۔
لیکن اس واقعہ سے ایودھیا کے مسلمانوں پر ایک بار پھر خوف کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔
وشو ہندو پریشد متنازعہ ارآضی کے اطراف مسلمانوں کے علاقوں کو تحویل میں لیا جائے نہیں تو مجوزہ رام مندر کو ہمیشہ خطرہ لاحق رہے گا |
منہدم بابری مسجد سے چند قدم کی دوری پر واقع ایک قدیم خانقاہ کے منتظم سید اخلاق احمد لطیفی اس وقت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب بابری مسجد منہدم کی گئی تھی اس وقت سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد نے یہاں کے مسلمانوں کے خلاف فساد بھڑکا کر انہیں ہمیشہ کے لیے ایودھیا چھوڑنے پر مجبور کرنا چاہا تھا۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔
![]() ایودھیا پر حملہ کرنے والوں کی گاڑی |
ایودھیا میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دو ہزار ہے۔ یہ معاشی اعتبار سے بھی کمزور ہیں۔ سلائی، جوتے بنانا یا پھر چھوٹی موٹی نوکریاں ہی انکا ذریعہ معاش ہیں۔
کچھ لوگوں نے قرض لے کر گاڑیاں خریدی ہیں جنہیں وہ ٹیکسی کے طور پر چلاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک سید ریحان بھی تھے۔ ان کی گاڑی شدت پسندوں نے بطور ٹیکسی کرائے پر لی تھی اور پھر اس کار کو بم سے اڑا دیا۔ پولیس نے تقریباً 20 دنوں تک پوچھ گچھ کے بعد ریحان کو بے قصور پایا۔
ریحان کی زندگی اب بالکل بدل گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرا ہر طرف سے نقصان ہوا ہے، میری قرض کی گاڑیاں تباہ ہو گئی، گرفتاری سے رسوائی ہوئی اور اب ہندو آ بادی مجھے بھی دہشت گردوں کا ہمدرد سمجھتی ہے‘۔
ایودھیا میں مسلم ویلفئر سوسائٹی کے صدر صادق علی عرف بابو خان کا کہنا ہے کہ ’شہر کے عام ہندوؤں اور مسلمانوں میں باہمی میل جول اور محبت رہی ہے، مگر وشو ہندو پریشد جیسی سخت گیر تنظیموں کو ایودھیا میں مسلمانوں کے وجود پر ہمیشہ اعتراض رہا ہے‘۔
بابو خان کے مطابق ’جولائی کے واقعہ کے بعد وی ایچ پی اور آر ایس ایس یہاں کے عام ہندوؤں کے دل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت گھولنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہیں‘۔
وشو ہندو پریشد نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ متنازعہ ارآضی کے اطراف مسلمانوں کے علاقوں کو تحویل میں لیا جائے نہیں تو مجوزہ رام مندر کو ہمیشہ خطرہ لاحق رہے گا۔
مسلمانوں کو اس بات کا اطمینان ہے کہ پانچ جولائی کو شدت پسند اپنے حملے میں کامیاب نہیں ہوئے اور سکیورٹی فورسز نے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر سکیورٹی فورسز نے ایسی ہی کوشش 1992 میں بھی کی ہوتی تو 500 برس پرانی تاریخی بابری مسجد آج اپنی جگہ موجود ہوتی۔