http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 19 May, 2005, 07:42 GMT 12:42 PST

دارا سنگھ کی سزائے موت ختم

بھارتی عدالت نے ایک آسٹریلوی مبلغ اور اس کے دو کم سن بیٹوں کے قاتل کدارا سنگھ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔

اس واقعے میں عمر قید پانے والے دیگر بارہ افراد میں سے گیارہ کو عدالت نے بری کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

گراہم سٹینز اور اس کے دو بیٹوں، دس سالہ فلپ اور آٹھ سالہ ٹموتھی کو انیس سو ننانوے میں مشرقی بھارت کے ایک دور افتادہ گاؤں میں زندہ جلادیا گیا تھا جس کی مزمت بھارت سمیت پوری دنیا میں کی گئی تھی۔

ایک طویل مقدمے کے بعد اس واقعے کے جرم میں تیرہ افراد کو ستمبر دو ہزار دو میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

ابھی تک یہ ظاہر نہیں ہوا ہے کہ اس عدالت نے دارا سنگھ کی سزائے موت میں کمی اور ایک مجرم کے علاوہ سب کو کیوں بری کردیا ہے۔

مسٹر سٹینز نے تیس سال اڑیسہ میں کوڑھ کے مریضوں کے ساتھ کام کیا تھا۔

انکی بیوہ، گلیڈیز بھارت میں جولائی دو ہزار چار تک مقیم رہیں اور پھر اس سال کے شروع میں بھارت پدما شری ایوارڈ وصول کرنے آئیں۔ یہ بھارتی قومی اعزاز
انہیں کوڑھ کے مریضوں کی بہبود کا کام کرنے کے صلے میں دیا گیا ہے۔
مسٹر سٹینز کی کار
مسٹر سٹینز کو اور ان کے دو کم سن بیٹوں کو 1999 میں زندہ جلادیا گیا تھا

انہوں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر اور بچوں کے قاتلوں کو معاف کردیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک طرح سے مجھے ان پر افسوس ہوتا ہے کہ کہ انہوں نے حقیقتاً اس طرح کی حرکت کی ہے۔‘

اس حملے کے وقت ان بائیں بازوں کے ہندو انتہا پسندوں پر الزام لگایا گیا تھا جو یہ شکایت کررہے تھے کہ ہندوؤں کو زبردستی عیسائی بنایا جارہا ہے۔

تاہم اس واقعے کی سرکاری سطح پر کی جانے والی انکوائری کے نتیجے میں کہا گیا تھا کہ اس واقعے میں کسی باقاعدہ ہندو گروپ کا ہاتھ نہیں تھا۔