Sunday, 08 May, 2005, 12:30 GMT 17:30 PST
حریت پسند رہنما سبھاش چندرا بوس کی زندگی پر بننے والی ریلیز سے پہلے سے ہی تنازعے کا شکار ہو گئی ہے اور اس فلم کے پروڈیسرز نے اعلان کیا کہ فلم کو وقتی طور پر کلکتہ میں نہیں دکھایا جائے گا۔
اس فلم کی کہانی ہندوستان پر راج کرنے والے انگریزوں سے لڑنے کے لیے پہلی انڈین نیشنل آرمی کو بنانے والے سبھاش چندر بوس اور آزادی کی جنگ میں ان کے کردار پرمبنی ہے۔
ہدایتکار شیام بینگل کی فلم ’فارگوٹن ہیرو‘ مغربی بنگال کے علاوہ ملک کے دوسرے علاقوں میں ریلیز کی جائے گی۔
سبھاش چندر بوس کی زندگی پر بننے والی فلم فارگوٹن ہیرو تنازعوں کا شکار ہو چکی ہے۔ سبھاش چندر بوس کی پارٹی فاروڈ بلاک کو جومغربی بنگالی کی مخلوط حکومت میں حصہ دار ہے، فارگوٹن ہیرو کے کئی پہلوؤں پر اعتراض ہے۔
فاروڈ بلاک کو سبھاش چندر کو خفیہ طور پر شادی شدہ ظاہر کرنے پر اعتراض ہے۔ پارٹی کا خیال ہے کہ سبھاش چندر بوس نے کبھی شادی کی ہی نہیں تھی۔
فلم کے ہدایتکار شیام بینگل کا کہنا ہے کہ سبھاش چندر بوس کی شادی ثابت ہو چکی ہے اور انکی بیوی ایملی کی چٹھیاں بھی شائع ہو چکی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نیتا جی کے بیٹے بھی ہیں جو زندہ ہیں اور جرمنی میں رہتے ہیں۔
فاروڈ بلاک کو سبھاش چندر بوس کے تائیوان میں ہونے والے ہوائی حادثے میں موت پر اعتراض ہے۔
فلم پروڈیوسر کے ترجمان نے کلکتہ میں فلم کی نمائش نہ کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی ہے اور صرف اتنا کہا ہے کہ کلکتہ میں کچھ مسائل ہیں جس کی وجہ سے وہاں فلم کی نمائش نہیں کی جا رہی ہے۔
سبھاش چندر بوس نے ہٹلر کے تعاون سے ہند آزادی کے لیے ایک فوج بنائی جو قید بنائے جانے والے فوجیوں پر مشتمل تھی