http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 06 May, 2005, 15:33 GMT 20:33 PST

صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی

دلی میں گردن توڑ بخار کا قہر

دارلحکومت دلی میں منن جائٹسٹ یعنی گردن توڑ بخار بیماری سے تقریبا پندرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سو سے زائد مریضوں کا مختلف اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔ یہ بیماری ’مننگوکل‘ نامی ایک بیکٹریا سے پھیلتی ہے اور عام طور پر اس کا آغاز دماغی بخار ہوتا ہے لیکن اس کا علاج آسان ہے۔

دلی حکومت نے اس بیماری سے نمٹنے کے لیے بہت سے انتظامات کیے ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے لیے کئی طرح کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ لیکن مرکزی وزیرصحت رامو داس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گردن توڑ بخار نے ابھی وبائی شکل اختیار نہیں کی ہے۔

اس بیماری کے اثرات اتنے خطرناک ہیں کہ متاثرہ شخص کے بعض اعضاء ناکارہ ہوسکتے ہیں۔ تیز بخار کے ساتھ پورے بدن پر سرخ دانے نکلتے ہیں۔ الٹیاں ہوتی ہیں اور مریض بے ہوش بھی ہوسکتا ہے۔ دلی میں ابھی تک یہ بیماری بھیڑ بھاڑ والے علاقوں تک ہی محدود ہے۔ اور انتظامیہ نے بھیڑ والے علاقوں میں نہ جانے کی ہدایات دی ہیں۔

دلی کی پڑوسی ریاست ہریانہ میں بھی انتظامیہ نے شعبہ صحت کے حکام کو گردن توڑ بخار سے متنبہ کردیا ہے۔ ہندوستان میں ماضی میں بھی منن جائٹسٹ یا گردن توڑ بخار کی وبا پھیل چکی ہے۔ اس وقت تقریبا آٹھ سوافراد ہلاک ہوئے تھے۔