Friday, 29 April, 2005, 04:37 GMT 09:37 PST
بھارت نے بگلیہار ڈیم کے تنازعہ کے حل کے لیے عالمی بینک کی طرف سے ماہرین کے ناموں کی فہرست ملنے کی تصدیق کر دی ہے۔
دلی میں بی بی سی کی نامہ نگار سیما چشتی کے مطابق بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نودیپ سرنا نے کہا ہے کہ عالمی بینک نے بھارتی حکومت سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سارے معاملے میں ایک غیر جانب دار ماہر کی ضرورت ہے۔ عالمی بینک کی طرف سے بھارت کو اس حوالے سے تین نام بھی دیے گئے ہیں۔
یہ تین نام پاکستان کو بھی دیے گئے ہیں اور جیسے ہی ان میں سے کسی نام پر اتفاق ہو گا یہ معاملہ آگے بڑھایا جائے گا۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بگلیہار ڈیم کا مسئلہ جلد از جلد حل ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں عالمی بینک کے غیر جانب دار ماہرین جو بھی فیصلہ دیں ہم اسے مانیں گے اور کوشش کریں گے کہ اس کا اطلاق جلد از جلد ہو جائے۔
اس سے قبل عالمی بینک نے کہا تھا کہ اس نے پاکستان کی طرف سے بگلیہار ڈیم پر ثالثی کی درخواست کو رد نہیں کیا اور وہ اس پر غور کر رہا ہے۔
بھارت نے کشمیر سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم اور پن بجلی گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو پاکستان کے مطابق سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
ورلڈ بینک نے یہ بیان بھارت کے اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کے بعد دیا تھا جن میں دعوی کیا گیا کہ تھا کہ ورلڈ بینک نے پاکستان کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
![]() پاکستان ڈیم کی تعمیر کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کہتا ہے |
پاکستان اور بھارت کے مابین کئی دفعہ اس متنازعہ ڈیم پر بات چیت ہوئی تھی لیکن بے سود رہی۔
عالمی بنک کا کہنا ہے کہ وہ اس درخواست کا جائزہ لے گا اور معاملات کو 1960 میں دونوں ممالک کے مابین ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت حل کرنے کی کوشش کرے گا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کو ملنے والے پانی میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔
پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر 1960 کی سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے جبکہ بھارتی موقف یہ ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی اور یہ ڈیم نہ تو پانی جمع کرے گا اور نہ ہی اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالے گا۔