Friday, 11 February, 2005, 14:32 GMT 19:32 PST
حال ہی میں پدم بھوشن کا خطاب حاصل کرنے والی فلمی شخصیت یش چوپڑہ اپنی فلم ویر زارہ کی وجہ سے خبروں میں تھے۔ ہندی آن لائن کی ہماری ساتھی سلمہ زیدی نے ممبئی کے اپنے حالیہ دورے میں ان کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت کی۔
اس انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی فلم ویر زارہ کے بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف رائے ہے خود ان کا کیا کہنا ہے کیا وہ اس فلم سے مطمئین ہیں ؟
مسٹر چوپڑہ نے کہا انہیں بہت خوشی ہے کہ انہوں نے ایک ایسی فلم بنائی جو بھارت پاکستان کے تعلقات کے بارے میں ہے لیکن اس میں نہ تو کوئی سیاست ہے نہ فوج اور نہ ہی لڑائی کی کوئی بات یہ محبت کی کہانی ہے ۔اس فلم کے کردار بھی وہی ہیں جو ہمیں اپنے ارد گرد کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔
یش چوپڑہ کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے ان کی فلم دھوم کو پسند کیا تھا شاید انہیں یہ فلم پسند نہ آئی ہو۔
یش چوپڑہ کا کہنا تھا ’میں نے پنجاب کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے چاہے وہ بھارت میں ہو یا پاکستان میں وہاں کی مٹی کی خوشبو ایک سی ہے وہاں کی پہچان زبان کچھ بھی تو فرق نہیں‘۔
یش چوپڑہ کی فلمیں اس زمرے میں آتی ہیں جس میں گھر کے تمام لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھ سکتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنی فلموں میں فحاشی یا جسم کی نمائش سے ہمیشہ پرہیز کیا ہے جبکہ کچھ فلمساز اسے اس دور کی ضرورت بتاتے ہیں تو انہوں نے اس ضرورت کے آگے سر کیوں نہیں جھکایا؟
یہ پوچھے جانے پر کہ مغل آعظم جیسی فلم کو رنگین کرکے دوبارہ ریلیز کرنا کیا ایک نئے رجحان کا آغاز ہے اور کیا وہ اپنی پرانی فلموں کو اس طرح دوبارہ ریلیز کرنا چاہیں گے ۔
انہوں نے کہا ’ مغلِ آعظم کی بات اور ہے لیکن وہ اپنی بلیک اینڈ وہائٹ فلموں کو رنگین نہیں کرنا چاہیں گے کیونکہ ان کے خیال میں ایسا کرنےسے فلم کی روح کہیں نہ کہیں دب جاتی ہے‘۔