Monday, 20 December, 2004, 16:22 GMT 21:22 PST
بھارت میں پولیس ایک سترہ سالہ طالب علم سے موبائیل فون پر اپنی ہی قابل اعتراض ویڈیو فلم بنا کر فروخت کرنے کے بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔
اس وڈیو فلم میں اس کے اپنی ہی ایک سولہ سالہ ساتھی طالبہ کے ساتھ جنسی فعل کے مناظر کی عکس بندی کی گئی تھی۔
اس کو پیر کے روز بچوں کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
پولیس نے جمعہ کو نیلامی کروانے والی ایک ویب سائٹ کمپنی بازی ڈاٹ کام کے چیف ایگزیکیٹو اونیش بجاج کو بھی اس ویڈیو کلپ کی فروخت کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔
کمپنی نے ابتدائی طور پر ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ وڈیو کلپ میں کیا مواد ہے۔
پولیس نے گزشتہ ہفتے ایک اور لڑکے کو گرفتار کیا تھا جو انڈین انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کا طالب علم ہے اوراس ویڈیو کلپ کو ایک سو پچیس روپے میں انٹر نیٹ پر فروخت کر رہا تھا۔
یہ ویڈیو موبائیل فون کے ذریعے ہی بھارت اور بھارت کے باہر فروخت کی جانے لگی۔
لڑکے کی کم عمری کی وجہ سے پولیس اس کے والد اور ایک سوشل ورکر کی موجودگی میں تفتیش کرنے کی پابند ہے۔
سترہ سالہ لڑکے اور اس وڈیو کلپ میں دکھائی گئی سولہ سالہ طالبہ کو سکول سے خارج کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دو منٹ سینتیس سیکنڈ کا کلپ وڈیو سی ڈی پر کاپی کر کے فروخت کیا گیا تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس کے ایک اہلکار نے کہا کہ بازی ڈاٹ کام نے کلپ کی فروخت روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ وڈیو کلپ کی فروخت انٹر نیٹ پر جاری تھی جس کے بعد انہوں نے کمپنی کے سربراہ کو گرفتار کر لیا۔