Monday, 15 November, 2004, 14:13 GMT 19:13 PST
بھارت میں حکومت نے دیہی علاقوں میں بھوک سے نمٹنے کے لیے وسیع پیمانے پر دیہی ترقی پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کام بعوض خوراک نامی اس پروگرام کے تحت کسانوں کو ایک دن کی مزدوری کے بدلے پانچ کلو اناج اور کچھ رقم دی جائے گی۔
یہ کسان سڑکوں، پُلوں، نہروں اور آبپاشی کے دیگر منصوبوں پر کام کریں گے۔
وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اعلان کیا ہے بیس ارب روپے کی لاگت سے شروع کی جانے والی یہ سکیم دیہی علاقوں میں بے روزگاری ختم کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔
پروگرام کے لیے وفاقی حکومت ریاستی حکومتوں کو اناج اور پیسہ فراہم کرے گی۔
منموہن سنگھ نے اتوار کو ریاست آندھرا پردیش کے ایک گاؤں میں اس سکیم کا اعلان کیا۔
ریاست آندھرا پردیش میں کسانوں کی بڑی تعداد خشک سالی سے تنگ آ کر خود کشی کر چکی ہے۔ کانگریس پارٹی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اطلاعات کے مطابق اب تک پانچ سو کسان خود کشی کر چکے ہیں۔
سکیم کا اطلاق ملک بھر میں ایک سو پچاس پسماندہ اضلاع میں کیا جائے گا۔
منموہن سنگھ کی جماعت کانگریس پارٹی نے مئی میں غربت مٹانے کے نعرے پر انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ کانگریس کا کہنا تھا کہ اس وقت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اس سلسلے میں کچھ کرنے میں ناکام رہی تھی۔