http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 14 November, 2004, 06:23 GMT 11:23 PST

سانحہ بھوپال کے زہریلے نتائج

بی بی سی کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق بھوپال کے گردو نواح میں رہنے والے ہزاروں افراد بھوپال کے زہریلی گیس خارج ہونے کے سانحے کے بیس سال بعد اب بھی زہر کے خطرے کا شکار ہیں۔

سن 1984 میں زرعی ادویات کی امریکی کمپنی یونین کاربائیڈ کے پلانٹ سے
سے گیس خارج ہونے کی وجہ سے چار ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس جگہ کو صاف کرنے کی ذمہ داری یونین کاربائیڈ انڈیا لِمیٹڈ کی تھی۔

لیکن ابھی ہزاروں ٹن زہریلا کیمیائی مادہ پلانٹ کے قریب نامناسب حالات میں پڑا ہوا ہے اور اس سے خارج ہونے والے کیمیکلز شہر کے پانی کو متاثر کر رہے ہیں۔

بی بی سی نے کمپنی کی سائٹ کے قریب ہی ایک کنویں سے پینے کے پانی کا نمونہ لیا۔

اس میں آلودگی عالمی ادارہ صحت کی زیادہ سے زیادہ حد سے 500 گنا زیادہ پائی گئی ہے۔

وہ مقامی لوگ جو اس پانی کو روزانہ پیتے ہیں انہیں مستقبل میں کیمیائی مادے سے جگر اور گردے کی بیماری کا بہت خطرہ ہے۔

یونین کاربائیڈ نے ان نتائج کو چیلنج کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب 1998 میں انہوں نے ریاستی حکومت کو کارخانہ واپس کیا تھا تب زیرِ زمین پانی کی آلودگی کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔