Monday, 08 November, 2004, 09:18 GMT 14:18 PST
بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس کے کشمیری علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
یہ الزام بھارتی وزیر داخلہ شوراج پٹیل کی طرف سے لگایا گیا ہے جو ان دونوں کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں۔
پاکستان کے ایک ترجمان نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ انہوں نے پاکتسان کا موقف دہرایا کہ اسے کشمیر کے مستقبل کے بارے میں کسی بھی عمل میں شریک کیا جانا چاہیے۔
شو راج پٹیل کی طرف سے جاری ہونے والے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس وقت تک بھارت سے مذاکرات نہ کریں جب تک اسے بھی اس عمل میں شامل نہیں کیا جاتا۔
بھارت کا موقف ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اس کا داخلی مسئلہ اور اس کے بارے میں مذاکرات میں کسی تیسرے فریق کی گنجائش نہیں خواہ وہ بھارت اور کشمیری علیحدگی پسندوں کے درمیان ہوں یا پاکستان کے ساتھ۔
بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پیر کو شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے ہر ممکنہ حل پر بات کر سکتا ہے۔
شِو راج پٹیل نے علیحدگی پسندوں کو پاکستان جانے کی اجازت کی پیشکش کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سے شدت پسندں کا بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں داخلہ کم ضرور ہواہے لیکن پوری طرح ختم نہیں ہوا۔