Friday, 24 September, 2004, 00:33 GMT 05:33 PST
امریکی میں قائم انسانی حقوق کی ایک تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھارتی حکام پر الزام لگایا ہے کہ تین سال قبل ریاست گجرات میں ہونے والے فسادات کے مسلمان عینی شاہدوں کوتحفاظ فراہم کرنے کے بجائے ان کو ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔
بھارت کی ریاست گجرات میں تین سال قبل ہونے والے ان فسادات میں تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔
ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر بریڈ ایڈم نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتہ پارٹی کی صوبائی حکومت نے ریاست میں خوف ہراس کی فضا قائم رکھی اور ان فسادات میں ملوث عناصر کو پکڑنے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔
انہوں نے ریاستِ گجرات کے حکام پر الزام لگایا کہ وہ ان لوگوں کو پولیس اور ٹیکس کے اہلکاروں کے ذریعے ہراساں کرتے رہے جو انصاف کے متلاشی تھے اور ان فسادات کا نشانہ بنے تھے۔
ہیومن رائٹس واچ نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ ان فسادات کے متاثریں اور عینی شاہدوں اور ان کے وکلاء کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔
بدھ کے روز ممبئی میں ایک عدالت نے ان سولہ افراد کے خلاف نئے سرے سے فرد جرم عائد کی جن کو اس سے پہلے اس گجرات کے فسادات میں ملوث ہونے کے الزامات سے بری کیا جا چکا تھا۔ ان لوگوں کو گواہوں کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے بری کیا گیا تھا۔