Monday, 30 August, 2004, 11:26 GMT 16:26 PST
ہندوستان کی جنوبی ریاست کرناٹک کے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کی رہنما اُما بھارتی کے خلاف تمام مقدمات واپس لے لی گی۔
ایڈووکیٹ جنرل بی ٹی پارتھاسارتھی نے اس بات کا اعلان ریاست کی عدالت عالیہ کے سامنے اُما بھارتی کے خلاف درج مقدمات کی سماعت کے دوران کیا۔
توقع ہے کہ حکومت منگل کے روز اما بھارتی کے خلاف مقدمات باقاعدہ طور پر واپس لے لے گی جس کے بعد ان کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔
اما بھارت ارادہ قتل اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے الزام میں درج مقدمات کے سلسلے میں سات روز سے جیل میں ہیں۔ اما بھارتی کو ایک ماتحت عدالت نے چودہ دن کے عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا تھا۔
یہ مقدمات ان کے خلاف انیس سو چورانوے میں سیاسی تحریک کے دوران درج کیے گئے تھے۔
پیر کے روز عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا تھا کہ مقدمات پر سماعت جاری رکھنے یا انہیں واپس لینے کا اختیار ہبلی میں مجسٹریٹ کے پاس ہے۔
عدالت نے یہ فیصلہ بی جے پی کی رہنما کی رہائی کے لیے دائر کی گئی ایک رٹ درخواست پر سنایا۔
عدالت کے فیصلے کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل منگل کو ہبلی کے مجسٹریٹ کے پاس مقدمات واپس لینے کی درخواست دائر کریں گے۔
اما بھارتی کی گرفتاری کے بعد بی جے پی کی طرف سے زبردست احتجاج کیا گیا تھا۔
بی جے پی کی طرف سے اعلان کیا گیا تھاکہ ہندوستان کے سابق نائب وزیر اعظم
ایل کے اڈوانی یکم ستبر سے ایک احتجاجی مارچ کی قیادت کریں گے اور بعد میں گرفتاری پیش کریں گے۔
بی جے پی کےاعلان کے مطابق ایک ہفتہ جاری رہنے والے اس احتجاج کا خاتمہ
بنگلور میں آٹھ سمتبر کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے خطاب سے ہونا تھا۔