Tuesday, 17 August, 2004, 10:39 GMT 15:39 PST
بھارت کی شمالی ریاست بہار میں حکام کا کہنا ہے کہ ضلع دربھنگہ میں پولیس کی فائرنگ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد مشتعل گاؤں والوں نے ریل اور روڈ ٹریفک کو بلاک کردیا ہے۔
یہ واقعہ دربھنگہ میں اونا کے مقام پر پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے سیلاب کے متاثرین کےلئے گاؤں کے سربراہ کے ذریعے امداد کی ’غیرمنصفانہ‘ تقسیم کے خلاف احتجاج کرنیوالے ہجوم کو منشتر کرنے کے لئے گولیاں چلائی تھیں۔
پولیس فائرنگ میں ہلاکت کا یہ اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔ گزشتہ ماہ ضلع ویشالی میں سیلاب سے متاثرہ افراد کو ملنے والی امداد کے دوران احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ میں بھی ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔
دربھنگہ ریاست بہار کے ان سات اضلاع میں ہے جہاں مون سون کی بارشوں کی وجہ سے حالیہ سیلاب میں چھ سو سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے تھے۔
ریاست بہار کی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لئے ایک سو بلین روپئے مختص کی ہے۔
پٹنہ سے ہمارے نامہ نگار منی کانت ٹھاکر کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت بھی متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے کے بعد مالی امداد کا اعلان کرنے والی ہے۔
بہار کے علاوہ مشرقی ریاست ویسٹ بنگال اور بنگلہ دیش میں حال میں آنیوالے سیلاب سے ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور کئی ملین بے گھر ہوگئے تھے۔