Thursday, 22 July, 2004, 01:58 GMT 06:58 PST
گجرات میں بی جے پی کی حکومت نے کہا ہے کہ گودھرا ٹرین حادثے اور اس کے بعد کے ہندو مسلم فسادات کی تحقیقات کرنیوالے کمیشن کو اب یہ حق ہوگا کہ وہ وزیراعلیٰ نریندر مودی، دیگر وزراء اور حکومتی اہلکاروں سے پوچھ گچھ کرسکتا ہے۔
دو سال قبل گودھرا ٹرین حادثے میں انسٹھ ہندو یاتری اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب کچھ مسلمانوں نے مبینہ طور پر ٹرین میں آگ لگادی تھی۔ اس کے بعد ہونیوالے فسادات میں لگ بھگ دو ہزار لوگ مارے گئے تھے جن میں بیشتر مسلمان تھے۔
جسٹِس جی ٹی ناناوتی اور جسٹس کے جی شاہ کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیشن ان فسادات کی تفتیش کررہا ہے۔ وزیراعلی نریندر مودی کی حکومت اور ریاستی حکام پر مسلمانوں کے خلاف فسادات کو نہ روکنے کا الزام ہے۔
ریاستی حکومت کے فیصلے کے مطابق اب کمیشن کو یہ حق ہوگا کہ وہ وزیراعلیٰ سمیت تمام وزراء اور اعلیٰ اہلکاروں سے پوچھ گچھ کرسکے۔
تاہم حقوق انسانی کا دفاع کرنیوالی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت نے کمیشن کو یہ اختیار اس لئے دیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کانگریس کی مرکزی حکومت ایک اور انکوائری کمیشن بنادے۔
پولیس مقابلہ
دریں اثناء حقوق انسانی کی تنظیموں نے گزشتہ ماہ گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک پولیس ’’مقابلے’’ میں چار افراد کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چاروں افراد کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ سے منسلک تھے اور نریندر مودی کے قتل کی سازش کررہے تھے۔
لیکن حقوق انسانی کی تنظیموں نے پولیس کے بیان پر شبہے کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں نے ایک تفتیشی ٹیم احمد آباد بھیجی تھی جس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’مقابلے’’ کے بارے میں پولیس کا بیان مقامی لوگوں کی نظر میں حقیقت سے الگ ہے۔