Sunday, 11 July, 2004, 12:40 GMT 17:40 PST
بھارتی ریاست مدھیا پردیش میں نچلی ذات کی تین دلت ہندو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک دلت ہندو لڑکے کے نسبتاً اونچی ذات کی یادیو لڑکی کو بھگا لے جانے کا بدلہ لینے کی غرض سے دلت خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
پولیس کو درج کرائی گئی رپورٹ کے مطابق تیس یادیو مردوں کے ایک گروہ نے دلت لڑکے کی والدہ اور دو قریبی رشتے داروں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔
مدھیا پردیش کے گاؤں بھمتولا میں اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب چودہ برس کی یادیو لڑکی انیس برس کے دلت لڑکے کے ساتھ بھاگ گی۔
بھوپال میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مہیش پانڈے کا کہنا ہے کہ یادیو افراد نے پنچائیت کے سامنے دلت ہندوؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ لڑکے اور لڑکی دونوں کو پیش کریں۔
پولیس کے مطابق لڑکی کے بھائی نے رپورٹ درج کرائی اور شادی کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
اس کے بعد یادیو افراد کے گروہ نے مبینہ طور پر دلت لڑکے کے گھر پر حملہ کیا اور جمعرات کی شب دلت خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
گاؤں میں ذات پات کی بنا پر فسادات شروع ہو جانے کے خطرے کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور لوگوں کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
بھارتی قانون کے مطابق ذات برادری کی بنیادوں پر تعصب برتنا ممنوع ہے لیکن حکومت ہند دیہات میں ذات پات کی بنیادوں پر ہونے والے جھگڑوں کو ختم کرانے میں ناکام رہی ہے۔
ہندوستان میں دلت یا ’اچھوت‘ برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے میں کامیابی تو ضرور حاصل ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود دلت ہندوؤں کی بیشتر تعداد کا تعلق ملک کے غریب ترین طبقے سے ہے۔