http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 22 June, 2004, 14:54 GMT 19:54 PST

بی جے پی سخت گیر موقف پر قائم

بھارتی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی، بی جے پی نے کہا ہے کہ وہ حالیہ انتخابات میں شکست کے باوجود اپنے سخت گیر ہندو موقف پر قائم رہے گی۔

بی جے پی کے صدر ونکیا نائیڈو نے کہا ہے کہ اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پارٹی اپنے نظریے کو بدلے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ انتخابات میں ناکامی کا ذمہ دار سہل پسندی کو ٹھہرایا۔

وہ ممبئی میں پارٹی کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جس میں پارٹی کی حالیہ انتخابات میں شکست پر غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ پارٹی نے غریب عوام کو بلا دیا تھا اور اس وجہ سے کانگریس انتخابات جیت گئی۔

انہوں نے کہا کہ ’شاید ہم حد سے زیادہ پر اعتماد ہو گئے تھے‘۔

اس اجلاس میں دوسرے امور کے علاوہ آئندہ ریاستی انتخابات کی حکمت عملی پر بھی غور کیا جائے گا کیونکہ ملک گیر انتخابات کے بعد ریاستی انتخابات بی جے پی کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔

نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس اجلاس میں بی جے پی اپنی ہندو قوم پرستانہ پالیسی کو مزید کٹر خطوط پر استوار کرے گی۔

اس میں سرِ فہرست ایودھیا میں بابری مسجد کے متنازعہ مقام پر رام مندر کی تعمیر کا معاملہ ہے ، اس متنازعہ معاملے کی وجہ سے انیس سو بانوے میں انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا تو مذہبی فسادات بھڑک اٹھے تھے جنہیں تقسیم کے بعد ہندوستان کے بدترین فسادات قرار دیا گیا تھا۔

اس کے آثار بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد نمایاں محسوس کیے جا رہے ہیں جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ پارٹی کے انتہا پسند عناصر نے پارٹی پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔

کیونکہ سابق وزیراعظم اٹل بھاری واجپئی کے ان بیانات کے بعد کہ گجرات کے فسادات نے بی جے پی کی ہار میں اہم کردار ادا کیا یہ توقع کی جا رہی تھی کہ گجرات کے متنازعہ تصور کیے جانے والے وزیراعلیٰ نریندر مودی کے خلاف اجلاس میں کسی اقدام پر غور کیا جائے گا۔

تاہم پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے خلاف کارروائی ابھی زیر ُغور نہیں ہے۔

بی جے پی کے ترجمان مختار عباس نقوی نے اجلاس سے پہلے کہا تھا کہ پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں انتخابات میں شکست کی وجوہات پر بحث کے علاوہ گجرات میں ہونے والے فسادات پر بھی بات چیت ہوگی۔