Friday, 04 June, 2004, 01:59 GMT 06:59 PST
بھارتی ریاست اڑیسہ میں ہزاروں مسلمانوں نے نیشنل وومن کمیشن کے اس حکمنامے کے خلاف احتجاج کیا جس کے تحت مسلمان شخص کی طرف سے نشہ میں دی گئی طلاق کو غیر موثر قرار دیا گیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ حکم مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے کے برابر ہے۔
مظاہرین نے کالے بیجز لگا کر اڑیسہ کے شہر بھدراک کی گلیوں میں خاموش مارچ کیا۔
گزشتہ برس جولائی میں چالیس سالہ شیر علی کی اپنی بیوی سے بحث ہوگئی اور اس نے شراب کے نشے میں اسے تین مرتبہ طلاق دے دی۔ مذہبی علماء کے مطابق اسلامی قانون کے مطابق اس کی دی گئی طلاق موثر ہوگئی تاہم دونوں میاں بیوی نے یہ واقعہ بھلا کر دوبارہ سے گزر بسر شروع کردی۔
ایک مقامی مذہبی گروہ کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے شیر علی کو اپنی بیوی سے علیحدہ ہونے کا کہا۔ اس نے انکار کیا تو اسے مارا پیٹا بھی گیا۔ علاقے کے ایک سوشل گروپ نے اس معاملے پر وومن کمیشن کی مداخلت چاہی۔
جمعرات کے مظاہرے میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ اس جوڑے کو اسلامی احکام پر عمل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ دوبارہ ساتط رہنا بھی چاہتے ہیں تو انہیں اسلامی طریقہ اپنانا چاہیے۔