Friday, 16 November, 2007, 13:01 GMT 18:01 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان میں ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد بیشترٹی وی چینلوں پر غیرذمہ دار اور غیر محبِ وطن ہونے کے الزام میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ان میں سے جو چینل حُب الوطنی کی سرکاری توضیح کو مانتے ہوئے اس پر عمل درآمد کےلئے تیار ہیں حکومت انہیں بخوشی کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دے دے گی لیکن ’وطن دشمن‘ٰ چینل اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ سکیں گے۔
اِن چینلوں کے اینکرمین ایک ٹی وی پروگرام میں جمع ہو کر اِس تشویش کا اظہار کر چُکے ہیں کہ چینل مالکان مسلسل مالی نقصانات کے باعث سرکاری دباؤ میں آجاتے ہیں تاہم ان نشرکاروں نے اپنے اس عہد کا اعلان بھی کیا کہ وہ درباری احکامات کی پیروی میں، عوام کو حقائق سے بے خبر رکھنے یا غلط اطلاعات فراہم کرنے کی سازش میں کبھی ملوث نہیں ہوں گے خواہ اس کےلئے انھیں نوکری ہی سے ہاتھ کیوں نہ دھونے پڑیں۔
ان نشرکاروں کےلئے شاید یہ بات حوصلے کا باعث بنے کہ وہ اس جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں اور نہ ہی یہ کوئی ایسی انوکھی صورتِ حال ہے جو تاریخ میں پہلی بار پیش آئی ہو۔امریکہ جیسے مہذب ترقی یافتہ اور جمہوری ملک میں بھی حق گوئی و بیباکی کے پرستار فن کاروں کو سرکاری مشینری کے جبر کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
آزادی صحافت کی ہو یا عدلیہ کی، ادب کی ہو یا فنونِ لطیفہ کی، کبھی تھالی میں رکھ کر پیش نہیں کی جاتی۔ آزادی کا حصول جہدِ مسلسل اور قربانی و ایثار کا تقاضہ کرتا ہے۔
ماہِ نومبر کی 25 تاریخ ہمیں یاد دہانی کراتی ہے کہ آج سے پورے ساٹھ برس پہلے ہالی وُڈ میں ایسے اداکاروں، مصنفوں، ہدایتکاروں اور فلمی شعبے سے تعلق رکھنے والے دیگر کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی تھی جو حُب الوطنی کی سرکاری تعریف پر پورے نہیں اترتے تھے اور جنہیں امریکی حکومت نے قوم کےلیے خطرہ قرار دیا تھا۔
![]() | |
| رونلڈ ریگن نے کانگریس کمیٹی کے سامنے اپنے ساتھی اداکاروں کے خلاف گواہی دی تھی |
کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے ہر ملزم سے یہ سوال ضرور کیا جاتا کہ کیا تم کمیونسٹ پارٹی کے رکن ہو یا ماضی میں کبھی رکن رہے ہو۔ جن فنکاروں نے اس سوال کو ذاتی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کا جواب دینے سے انکار کر دیا اُن کو’کانگریس کی توہین‘ کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا۔جیل جانے والوں میں آسکر ایوارڈ یافتہ مصنف اور ہدایتکار بھی شامل تھے۔
سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن 1947 میں ایک فلمی اداکار تھے اور اداکاروں کی یونین کی صدر بھی ۔ انھوں نے کانگریس کی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے فخریہ طور پر کہا کہ ہم نے اپنی یونین میں ایسے تمام افراد کی نشان دہی کر دی ہے جو وطن دشمن خیالات رکھتے ہیں، ہم اِن سب لوگوں کو چُن چُن کے نکال دیں گے۔
’مِکّی ماؤس‘ کے خالق اور کارٹون فلموں کے روح و رواں والٹ ڈزنی نے کُھلے بندوں محنت کش برادری اورمزدور لیڈروں کی مخالفت کی اور انھیں امریکہ کےلئے خطرہ قرار دیا۔ کانگریس کمیٹی کے سامنے ان کے بیان کا کچھ حصّہ نذرِ قارئین ہے۔
کمیٹی: مسٹر ڈزنی، آپ کے سٹوڈیو میں کام کرنے والے (ڈیڑھ ہزار) افراد میں سے کوئی کمیونسٹ بھی ہے۔
ڈزنی: جی نہیں، کوئی کمیونسٹ نہیں ہے۔
کمیٹی: کیا ماضی میں آپ کے یہاں کوئی کمیونسٹ ملازم رہا ہے؟
ڈزنی: جی ہاں، اب تو میں بتا سکتا ہوں کہ ان میں سے کون کون کمیونسٹ تھا۔
کمیٹی: کیا آپ کے خیال میں کمیونسٹ پارٹی کو ایک سیاسی جماعت کہا جا سکتا ہے؟
ڈزنی: جی نہیں جنابِ والا یہ سیاسی پارٹی نہیں بلکہ امریکہ دشمن عناصر کا ایک گٹھ جوڑ ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ یہ لوگ ہماری محنت کش تنظیموں میں گھُس آتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ٹریڈ یونین کو اپنے چُنگل میں جکڑ لیتے ہیں۔ مثلاً میرے سٹوڈیو میں کام کرنے والے کارکنوں کی اکثریت سیدھے سادھے محبِ وطن امریکیوں پر مشتمل ہے لیکن یونین کی قیادت کمیونسٹوں کے ہاتھ میں ہے چنانچہ باہر کی دنیا کو یہی تاثر ملتا ہے کہ میرے سب کارکن اشتراکی نقطہء نظر کے حامل ہیں۔۔۔ میرا تو دِل چاہتا ہے کہ ان لوگوں کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال پھینکوں۔
کمیٹی: آپ کے خیال میں فلمی صنعت کو اِن عناصر سے کس طرح پاک کیا جاسکتا ہے؟
ڈزنی: میرے خیال میں اس نیک کام کا آغاز تو ہو چُکا ہے جناب۔ میری ذاتی مشکل یہ ہے کہ میرے سٹوڈیو میں اِن تخریبی عناصر نے ٹریڈ یونین کی ڈھال سامنے کر رکھی ہے۔ اِن لوگوں نے محنت کشوں کی فلاح و بہبود کا ڈھونگ رچا رکھا ہے چنانچہ میں اِن میں سے کسی پر ہاتھ ڈالتا ہوں تو میرے خلاف مزدور دشمنی کے نعرے بلند ہونے لگتے ہیں۔ ہمیں بڑے پیمانے پر یہ کام کرنا ہوگا اور امریکہ بھر کے محنت کشوں میں سے اِن تخریبی عناصر کو نکال باہر کرنا ہوگا۔۔۔
والٹ ڈزنی ایک سٹوڈیو کے مالک تھے، جہاں ہزاروں لوگ ان کے لیے کام کرتے تھے۔انہیں اس بات کا شدید خطرہ تھا کہ اگر محنت کشوں میں اتحاد پیدا ہوگیا تو مالکان اُن سے من مرضی کا کام نہیں لے سکیں گے۔ والٹ ڈزنی کی طرح دیگر سٹوڈیو مالکان بھی اسی خدشے میں مبتلا تھے چنانچہ سب مالکان نےگٹھ جوڑ کر کے ایسے تمام افراد کو ملازمت سے خارج کردیا جو محنت کشوں کی بے چینی کو ایک تحریک میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ان اداکاروں، ادیبوں اور ڈائریکٹروں کا روزگار چھِینتے وقت اِن پر محض غیر محبِ وطن ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔